آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی حکام نے 10 خواتین کو ڈرائیونگ لائسینس دے دیا
سعودی عرب میں خواتین کے لیے ڈرائیونگ پر عائد پابندی ختم ہونے کے چند ہی ہفتے قبل حکام نے خواتین کو ڈرائیونگ لائسینس دینے شروع کر دیے ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں 10 ایسی خواتین کو ڈرائیونگ لائسینس دیے گئے جو اس سے قبل کسی دوسرے ملک میں ڈرائیونگ کر چکی تھیں۔
لیکن دوسری جانب خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان نے اس پابندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے والی خواتین کی گرفتاری پر تنقید کی ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ حکام کو 24 جون سے قبل ڈرائیونگ لائسینس کے حصول کے لیے لاتعداد درخواستیں موصول ہوں گی۔
خیال رہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو مردوں سے بہت سے معاملات میں اجازت درکار ہوتی ہے۔
اس سے قبل خواتین کو سفر کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور خاندان کو ان کے لیے خصوصی ڈرائیور رکھنا پڑتا تھا۔
کئی دہائیوں تک خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے مرد و خواتین نے آواز اٹھائی اور اس دوران قید کی کا سامنا بھی کیا۔
گذشتہ ماہ بھی حکام نے متعدد خواتین اور مردوں کو گرفتار کیا اور ان پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ غیر ملکی طاقتوں کے لیے کام کر رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جن خواتین کو گرفتار کیا گیا ان میں لجين هذلول الهذلول، عزیزہ الا یوسف اور ایمان الا نجفان شامل ہیں جنھوں نے خواتین کی ڈرائیونگ پر عائد پابندی کی کھلم کھلا تنقید کی تھی۔
انسانی حقبق کے لیے کام کرنے والے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ یہ صریح دھمکیوں کے ہتھکنڈے ہیں۔
اتوار کو سعودی پراسیکیوٹر نے کہا کہ گرفتار ہونے والے 17 افراد میں سے آٹھ کو عارضی بنیادوں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
سعودی وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے تک 200 خواتین کو ڈرائیونگ لائسینس دے دیا جائے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر 10 خواتین کو لائسینس دے کر تاریخ رقم کر دی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں لائسینس حاصل کرنے والی ریما جوادت کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ میرا خواب پورا ہو گیا ہے اب میں جلد ہی سعودی عرب میں گاڑی چلا سکوں گی۔
وہ کہتی ہیں کہ میری نظر میں ڈرائیونگ مجھے اس بات کا اختیار دیتی ہے کہ میں اکیلے کہیں آ جا سکوں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت، تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کی اجازت شامل ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کو ملک کے نئے ترقیاتی پلان وژن 2030 کا بانی بھی مانا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی کوشش ہے کہ ملک کو اقتصادی طور پر تیل پر انحصار کم کرنا پڑے۔