آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب میں ’گرفتار افراد میں سے اکثریت معافی کے بدلے سمجھوتہ کرنے پر تیار‘
سعودی عرب کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ کرپشن کے الزامات میں گرفتار افراد میں سے زیادہ تر نے حکام کے ساتھ معافی کے بدلے سمجھوتہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المجیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 320 افراد کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا جن میں اس وقت 159 افراد حراست میں ہیں۔
بیان کے مطابق جنھوں نے الزامات سے انکار کیا یا سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔
ابھی تک گرفتار کیے جانے والے افراد پر الزامات کی نوعیت واضح نہیں تاہم اٹارنی جنرل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ’بین الاقوامی اصولوں کے طریقۂ کار کو اپنایا گیا‘۔
دوسری جانب سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان الزامات مضحکہ انگیز قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انسداد بدعنوانی مہم کا مقصد اقتدار پر گرفت مضبوط کرنا ہے۔
ولی عہد نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے افراد میں سے زیادہ تر پہلے ہی ان سے وفاداری کا اعلان کر چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے گذشتہ ہفتے ہی کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیے گئے شہزادہ متعب بن عبداللہ کو رہا کر دیا گیا تھا۔
ایک وقت تھا کہ شہزادہ متعب کے سعودی تخت تک پہنچنے کے بارے میں توقع کی جاتی تھی تاہم اب انھیں اپنی رہائی کے لیے ایک ارب ڈالر کا معاہدہ کرنا پڑا۔
یاد رہے کہ شہزادہ متعیب ان 200 اہم سیاسی اور کارروباری شخصیات میں سے ایک ہیں جنھیں چار نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔
64 سالہ شہزادہ متعب سابق بادشاہ عبداللہ کے بیٹے ہیں اور انھیں گرفتاری سے تھوڑی دیر قبل ہی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔
سعودی عرب میں نئی انسداد بدعنوانی کمیٹی نے 11 شہزادوں، چار موجودہ اور ’درجنوں‘ سابق وزرا کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں معروف سعودی کاروباری شخصیت شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل تھے۔
یہ گرفتاریاں اس انسداد بدعنوانی کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹوں بعد کی گئیں جس کے سربراہ ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔
اس موقعے پر سعودی عرب کے اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ ملک میں حالیہ عشروں کے دوران ایک کھرب ڈالر کی خردبرد ہوئی ہے۔
گرفتار افراد کو دارالحکومت ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا۔
یہ گرفتاریاں گذشتہ برسوں میں سعودی عرب سے آنے والی اہم ترین خبروں میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب میں اس پر کھلے عام بہت کم بات ہو رہی ہے۔