آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب میں خواتین پہلی بار سٹیڈیم میں، ’شاندار تبدیلی اور رنگوں کا دھماکہ‘
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو
سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار خواتین شائقین کو سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے فٹبال میچز دیکھنے کا موقع ملا ہے۔
پہلا میچ جمعے کو جدہ جبکہ دوسرا سنیچر کو رادالحکومت ریاض میں مقامی پروفیشنل لیگ کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔
خیال رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے خواتین کے حقوق اور اختیارات پر پہلے سے موجود عائد پابندیوں کو کم کرنے کا آغاز گذشتہ برس سے کیا ہے جس کے تحت گاڑی چلانے کی اجازت، بغیر محرم کے سعودی عرب میں داخلے کی اجازت اور تفریح کے لیے گھر کی بجائے کھیل کے میدان میں جانے اور سینیما گھروں میں جانے کا موقع تاریخ میں پہلی بار مل رہا ہے۔
جمعے اور سنیچر کو منعقد ہونے والے فٹ بال میچز کو دیکھنے کے لیے اکیلی آنے والی خواتین اور فیملز کے لیے مردوں سے الگ انکلوژرز بنائے گئے تھے۔
میچ کے دوران خواتین کی جانب خواتین عملے کو ہی تعینات کیا گیا تھا۔ روایتی کالے حجاب میں ملبوس ان خاتون اہلکاروں نے خواتین شائقین کو خوش آمدید کہا۔
ریاض کے سٹیڈیم میں موجود نوجوان لڑکیاں الیحہ اور صبائنہ نے اسے معمول کی زندگی میں ’شاندار تبدیلی اور رنگوں کا دھماکہ‘ قرار دیا۔
دونوں بہنوں نے اپنے والدین کے ساتھ اس میچ کو انجوائے کیا اور بی بی سی سے اپنے تاثرات اور جذبات بذریعہ فون شیئر کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ الاتحاد اور الہلال ٹیم کے درمیان بہت زبردست میچ رہا اس دوعان ہمارے دل جوش سے تیز تیز دھڑک رہے تھے وہاں موجود مختلف قومیتوں کے لوگ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے، میچ کے مردوں خواتین ایک ساتھ اپنی خوشی اور فرسٹریشن کا کھل کر اظہار بھی کر رہے تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’وہاں بہت سے شائقین روایتی گانوں اور ڈھول کی تھاپ پر رقص بھی کر رہے تھے۔ خوشی اور جوش کے ساتھ لگائے جانے والے نعرے پورے سٹیڈیم میں گونج رہے تھے۔‘
ریاض کی رہائشی تین طالبات صامیہ،صدف اور سمیرہ نے اپنے شہر میں میچ دیکھنے کے بجائے جدہ جانے کا فیصلہ کیا۔
جمعے کو جدہ میں میچ ختم ہونے کے بعد بی بی سی سے گفتگو میں صامیہ نے کہا کہ 'ہمیں اس سب کی امید نہیں تھی، جس طرح ہمیں خوش آمدید کہا گیا اور جو عزت دی گئی۔ سب کچھ بہت اچھا تھا۔'
ایم بی اے کی طالبہ سمیرا احمد جو سکول کے بعد بیڈمنٹن اور باسکٹ بال کا شوق جاری نہیں رکھ سکیں خواتین کے سٹیڈیم میں داخلے پر بہت خوش اور پرامید ہیں کہ مستقبل میں کھیل کے میدان میں بھی لڑکیوں کو بھی مزید مواقع مل سکتے ہیں۔
سکول ٹیچر صدف نے کہا ’تھینکس ٹو گورنمنٹ، حکومت کا یہ سب کرنے پر شکریہ، ہم سب بہت خوش ہیں۔ ہم نے بہت انجوائے کیا۔ میں خواتین اور لڑکیوں کی اصل تعداد تو نہیں بتا سکتی لیکن ان کی تعداد کافی زیادہ تھی اور ان کا تعلق مختلف اقوام سے تھا۔‘
میچ کے دوران خواتین شائقین بلند آواز میں دونوں ٹیموں کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔
امریکہ میں سعودی سفارتخانے کی ترجمان فاطمہ ایس بائتین نے کہا ہے کہ ’یہ عورتوں کے حقوق سے بڑھ کر ہے۔‘
خواتین کو سٹیڈیم میں داخلے کی اجازت کے لیے کی جانے والی کوششوں میں شامل ایونٹ کمپنی کی مالک سمیرہ عزیز کہتی ہیں کہ ستمبر میں حکومت نے اس پابندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔' ابتدا میں مجھے اجازت ملی تھی لیکن کہا گیا کہ صرف مردوں کے لیے ہے میں نے کہا نہیں مجھے فیملیز کے لیے چاہیے، سنگلز بھی آسکتے ہیں لیکن فیملی ضروری ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وژن 2030 آچکا ہے صرف قدم بڑھانے کی ضرورت ہے ، کوشش جاری رکھیں اور پھر ستمبر 2017 میں مجھے اجازت ملی۔ اسی دوران دیگر آرگنائزرز کو بھی اجازت ملی جس کا پہلا میچ جمعے کو ہوا۔'
سمیرہ جس ایونٹ کے لیے کوشاں تھیں وہ 13 اپریل کو منعقدہ ہو گا جس کی خاص بات اس میں انڈیا اور سعودی عرب کی سلیبریٹیز شامل ہوں گی۔
جہاں اس خبر پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے وہیں سعودی سوشل میڈیا پر صارفین اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں اور اسے مغرب کی تقلید اور اسلام کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چند روز پہلے ہی ملک میں پہلے ویمن سکواش ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا تھا جبکہ گذشتہ برس نومبر میں ویمن باسکٹ بال چیمپیئن شپ منعقد ہوئی۔ اس وقت وہاں آنے والی خواتین شائقین کی تعداد 3000 بتائی گئی تھی۔
سعودی خواتین پر اب بھی کچھ پابندیاں برقرار ہیں جن میں انھیں مردوں کی اجازت ضروری ہوتی ہے ان میں سے چند یہ ہیں۔
- پاسپورٹ کا حصول
- بیرون ملک سفر
- شادی
- بینک اکاؤنٹ کھلوانے
- مخصوص کاروبار شروع کرنے
- موت کی سزا پانے کے بعد ان کی میت کی گھر منتقلی