ٹرمپ پر الزام لگانے والی پورن سٹار عریاں کلب سے ’گرفتار‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز کو ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس کے ایک عریاں کلب سے ’گرفتار‘ کر لیا گیا ہے۔ یہ بات ان کے وکیل نے بتائی ہے۔
ڈینیئلز کو مبینہ طور پر 'سائرنز' نامی کلب کے ایک گاہک کو خود کو 'غیر جنسی انداز میں' چھونے کی پاداش میں ’گرفتار‘ کیا گیا۔
ڈینیئلز اس وقت مشہور ہو گئی تھیں جب انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2006 میں سیکس کیا تھا۔ صدر ٹرمپ اس کی تردید کرتے ہیں۔
ان کے وکیل مائیکل اوینیٹی نے کہا ہے کہ اس گرفتاری کی وجوہات 'سیاسی' ہیں اور یہ ان کی موکلہ کو پھنسانے کی کوشش ہے۔
کولمبس پولیس کے ترجمان نے ابھی تک گرفتاری کی تصدیق نہیں کی۔ اوینیٹی نے ٹویٹ میں کہا کہ ان کی موکلہ وہی پرفارمنس دے رہی تھیں جو وہ ملک کے ایک سو عریاں کلبوں میں ایک عرصے سے دیتی آئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ انھیں جلد ہی ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ریاست اوہائیو کے ایک قانون کے تحت عریاں یا نیم عریاں رقاصہ کو چھونے کی ممانعت ہے، سوائے اس کے کہ وہ آپس میں رشتہ دار ہوں۔
سائرنز نے گذشتہ ماہ ٹویٹ کے ذریعے مشتہر کیا تھا کہ ڈینیئلز 11 اور 12 جولائی کو پرفارم کریں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم کلب نے اس واقعے کی تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔
ڈینیئلز کا کہنا ہے کہ انھیں 2016 کے صدارتی انتخاب سے قبل ٹرمپ سے جنسی تعلق کے بارے میں منہ بند رکھنے کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر دیے گئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ یہ پیسے ان کے وکیل نے ان کے علم کے بغیر دیے تھے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ پیسے انہی کے کھاتے سے گئے تھے۔








