پورن سٹار سے جنسی تعلق، ٹرمپ کی سختی سے تردید

،تصویر کا ذریعہReuters
وائٹ ہاوس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پورن سٹار سے جنسی تعلق کے الزامات کی تردید کی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ 2006 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے جنسی رشتے کو چھپانے کے لیے انھیں دھمکایا گیا تھا۔
انھوں نے سی بی ایس نیوز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ 2011 میں لاس ویگاس میں ایک کار پارک میں ایک شخص نے کہا کہ ’ٹرمپ کو اکیلا چھوڑ دو۔‘ اس کے بعد اس شخص نے اداکارہ کی بیٹی کی طرف دیکھا اور کہا کہ ’کتنی شرم کی بات ہوگی اگر اس بچی کی ماں کو کچھ ہو گیا۔‘
صدر کے ترجمان ترجمان راج شاہ نے کہا ہے کہ ’صدر اس پر یقین نہیں رکھتے کہ ایسا کوئی دعویٰ جو گذشتہ شب مِس ڈینیئلز نے اپنے انٹرویو میں کیا وہ درست تھا۔‘
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز غیر افشائے راز معاہدے کی خلاف ورزی کے لیے کم از کم دو کروڑ امریکی ڈالر کے ہرجانے کی قانونی مجاز ہیں۔
اداکارہ کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے پر کبھی دستخط نہیں کیا اور اسی بنیاد پر اویناٹی کا کہنا ہے کہ ڈینیئلز اس معاہدے سے بری الذمہ ہوتی ہیں۔
اپنے انٹرویو میں اداکارہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ صرف ایک مرتبہ سیکس کیا تھا۔ اس مبینہ رشتے کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ ملانیا ٹرمپ سے شادی کر چکے تھے۔
دوسری جانب رواں ماہ کے اوائل میں دینیئلز کے وکیل مائيکل اویناٹی نے مقدمہ دائر کیا تھا کہ اس رازداری کے معاہدے کو ختم کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس میں کہا گيا تھا کہ سٹورمی دینیئلز نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سنہ 2006 میں رشتہ قائم کیا تھا جو کہ سنہ 2007 میں بھی قائم رہا تھا۔
بہر حال وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ اور ڈینیئلز کے درمیان کسی جنسی تعلق سے انکار کیا ہے جبکہ ڈینیئلز نے ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر رقم لوٹانے کی بات کہی تاکہ وہ 'صدر کے ساتھ اپنے قدیمی تعلق کے بارے میں اور خاموش کیے جانے کی کوششوں کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں۔'








