آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شمالی کوریا: ’جوہری تجربے کی سائٹ میں مزید تجربے نہیں کیے جا سکتے‘
چینی سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ پہاڑ جہاں شمالی کوریا جوہری تجربے کرتا تھا وہ جزوی طور پر منہدم ہو گیا ہے اور وہاں پر مزید جوہری تجربے نہیں کیے جا سکتے۔
پنگی ری نامی سائٹ پر 2006 سے اب تک چھ جوہری تجربے کیے جا چکے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں آخری تجربے کے بعد کئی آفٹر شاکس آئے اور اندازہ ہے کہ پہاڑ کے اندر کچھ حصہ منہدم ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ہفتے کو شمالی کوریا کے رہنما کم جون اُن نے اعلان کیا تھا کہ وہ جوہری تجربوں کو روک رہے ہیں۔
انھوں نے یہ اعلان اس وقت کیا ہے جب وہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہا ہے۔
چینی سائنسدانوں کی یہ تحقیق امریکی سائنسی جریدے جیو فیزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہونے والی ہے۔
اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ستمبر میں کیے جانے والے جوہری تجربے کے ساڑھے آٹھ منٹ بعد پہاڑ کا حصہ منہدم ہوا۔
پنگی ری نامی سائٹ شمالی کوریا کے شمال مشرق میں پہاڑی سلسلے میں واقعے ہے اور جوہری تجربے ماؤنٹ منتپ میں کھودی گئی سرنگوں میں کیے جاتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چینی تحقیق کے خلاصے میں کہا گیا ہے ’ماؤنٹ منتپ کے اندر کچھ حصہ منہدم ہونے کے باعث یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس جگہ مزید جوہری تجربے نہیں کیے جاسکتے۔‘
تاہم اس رپورٹ کو ریویو کرنے والے ساتھیوں کا کہنا ہے ’اس سائٹ کا حصہ منہدم ہونے کے بعد ضروری ہے کہ اس علاقے پر تابکاری کے اخراج پر نظر رکھی جائے۔‘
جیلن ارتھ کوئیک ایجنسی کی ٹیم نے بھی پچھلے ماہ اپنی رپورٹ میں تجرنے کی سائٹ کے جزوی منہدم کی خبر دی تھی۔
اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دھماکے کے باعث سرنگ منہدم ہو گئی تھی۔