آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نو دنوں کا سفر 17 گھنٹوں میں سمٹ گیا!
آسٹریلیا کی قنطاس ایئرلائن نے سنیچر کو آسٹریلیا سے برطانیہ کے لیے اپنی پہلی براہ راست پرواز کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ پرواز بغیر کہیں رکے 9 ہزار میل کا سفر 17 گھنٹوں میں طے کر کے لندن پہنچی۔
ایک صدی سے کم عرصے میں آسٹریلیا سے برطانیہ کا سفر جو سمندر کے راستے کبھی نو دنوں کا ہوا کرتا تھا اب صرف 17 گھنٹوں کی ایک پرواز میں سمٹ گیا ہے۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ پرواز 24 مارچ کو پرتھ کے مقامی وقت کے مطابق شام چھ بج کر 45 منٹ پر روانہ ہوئی ہے اور بغیر کہیں رکے 17 گھنٹوں کا سفر طے کر کے لندن کے مقامی وقت کے مطابق اتوار کو صبح سویرے 5 بجے لندن پہنچی۔
جب آسٹریلیا سے لندن تک کا یہ روٹ 1935 میں شروع کیا گیا تھا تو اسے ’کینگرو روٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔
اس سفر میں طیارہ دس اہم مقامات پر رکا کرتا تھا جس میں روم، طرابلس، قاہرہ، بغداد، کراچی، کلکتہ، سنگاپور، بتاویا، ڈارون اور پھر سڈنی شامل تھے۔
اس سفر میں ابتدا میں 21 مقامات پر طیارہ رُک کر ایندھن بھی بھرا کرتا تھا۔
قنطاس ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ 'جب 1947 میں قنطاس نے لندن تک کا یہ کینگرو روٹ شروع کیا تھا تو اس وقت اسے منزل تک پہنچنے میں چار دن لگتے تھے جس دوران اسے نو جگہوں پر رکنا پڑتا تھا۔‘
اب اتنی طویل براہ راست پرواز کیسے ممکن ہوئی؟
اس فلائٹ کے لیے بوئنگ کا ڈریم لائنر 787-9 استعمال کیا جا رہا ہے جو ایندھن کے معاملے میں بوئنگ 747 کے مقابلے میں دو گنا باکفایت ہے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق یہ دنیا کی دوسری طویل ترین پرواز تھی اور فی الحال دنیا کی سب سے طویل ترین پرواز کا اعزاز قطر ایئرویز کے پاس ہے جو دوحہ سے نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ کا 14 ہزار 529 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔
اس کے علاوہ ایمریٹس اور یونائیٹڈ ایئرلائنز بھی بغیر رکے 14 ہزار کلومیٹرسے زیادہ کا سفر طے کر چکی ہیں۔
سنگاپور ایئرلائن بھی بغیر کہیں رکے سب سے طویل فلائٹ کا اپنا اعزاز واپس حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
سنگاپور ایئرلائنز سنگاپور سے نیویارک کا 15 ہزار 300 کلومیٹر کا سفر طے کرتی تھی لیکن اس نے 2013 میں یہ سفر روک دیا تھا جس کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ اس کے لیے چار انجن والا جہاز ناکافی تھا۔
وہ اس سفر کے لیے ایئربس A340-500s استعمال کرتی تھی۔
ایئر بس کے طیارے اے 350 کے تازہ ترین ماڈل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بغیر کہیں رکے 17 ہزار 960 کلومیٹر کا سفر طے کر سکے گا۔ اگر ایسا ہوا تو سڈنی سے لندن تک کا طویل سفر بھی بغیر کہیں رکے ممکن ہو سکے گا۔
اس روٹ کا فائدہ کس کو ہے؟
آسٹریلیا کی حکومت کو امید ہے کہ اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔
2015 میں برطانیہ سے چھ لاکھ ساٹھ ہزار افراد نے آسٹریلیا کا سفر کیا تھا اور وہ حکام اس میں اضافے کی امید کر رہے ہیں۔
اکانومی کلاس میں 17 گھنٹے کا سفر ممکن ہے؟
سنگا پور نے نیو یارک کی وہ فلائٹ اس لیے بھی معطل کر دی تھی کیوں کہ اکانومی کلاس میں 19 گھنٹے کا سفر برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ اور پورے طیارے کو بزنس کلاس بنا دینا مالی طور پر قابل برداشت نہیں تھا۔
اب ماہرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ طویل فلائٹوں کے دوران اکانومی میں سفر کرنے والے مسافروں پر ہونے والے منفی اثرات کو کیسے کم کیا جا سکے۔
یونیورسٹی آف سڈنی کے چارلس پرکِنز سینٹر سے منسلک پروفیسر سٹیو سمپسن کوانتس ایئرلائن کے ساتھ کام کرتے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ طویل سفر کے دوران انسان کے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ان کے مطابق فلائٹ کے دوران انسان کی 'باڈی کلاک' یا جسم کے اوقات متاثر ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق آپ اس قسم کے سفر سے پہلے ایسے اقدامات کر سکتے ہیں جس سے آپ کے جسم کو مدد مل سکتی ہے۔
'فلائٹ سے چند روز پہلے صبح سویرے جاگ جائیں، ایئر پورٹ پہنچ کر لنچ جلدی کر لیں جیسا کہ دس بجے صبح، فلائٹ کے دوران دیا گیا پہلا کھانا آپ کا رات کا کھانا بن جائے گا اور پھر چاہے سہ پہر کے چار ہی کیوں نا بجے ہوں آپ سو جائیں گے'
قنطاس کی اس افتتاحی پرواز میں 20 مسافروں کو مانیٹر کیا جائے گا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ سفر کے دوران ان کے جسم کا ردعمل کیا ہوتا ہے جس میں درجہ حرارت بھی شامل ہوگا جوکہ نیند کے لیے بہت ضروری ہے۔