تصاویر: انسانی اور قدرتی سانحوں سے متاثرہ افراد کی نئی زندگی

چار معروف فوٹوگرافرز، اولی برن، ٹام سٹوڈارٹ، ویرونیق ڈی وگئیر اور ڈؤگی والیس نے غیر سرکاری ادارے شیلٹر باکس کے ساتھ کام کرتے ہوئے صومالی لینڈ اور برٹش ورجن آئیلینڈ میں رہائش پذیر ان خاندانوں سے ملاقات کی جو قحط اور سمندری طوفان ارما کی تباہ کاریوں سے سخت متاثر تھے اور اس کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش میں تارکین وطن کے کیمپ میں مقیم روہنگیا مسلمانوں سے بھی ملاقات کی۔

روہنگیا مسلمان، علی حسین اور ان کی اہلیہ شومی نارا کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ لیکن ان دونوں کو قریب لانے کی وجہ ایک سانحہ ہے۔

ان دونوں کے خاندانوں نے میانمار میں روہنگیا مسلمان کے خلاف ہونے والے مظالم سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کی تھی جس کے بعد وہ بنگلہ دیش کے بالو خالی کیمپ میں جا کر مقیم ہو گئے تھے۔

شومی نے اپنے شادی کے موقع پر روایتی پیلے رنگ کا جوڑا پہنا تھا۔

علی نے بتایا: ’شادی اسی گھر میں منعقد ہوئی۔ ہم نے کیمپ میں رہنے والے چند افراد کو مدعو کیا تھا اور یہیں بھی شادی کا جشن منایا۔ ہم نے موسیقی اور رقص کا اہتمام کا اور مہمانوں کے لیے مرغی کا سالن بھی تیار کیا۔‘

اس کیمپ میں رہنے والوں کی تصویر کشی ویرونیق ڈی وگئیر نے کی۔

روہنگیا خاندانوں کو میانمار میں اپنے گھروں سے فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے بھاگنا پڑا اور اب مون سون اور سمندری طوفانوں کے موسم کی آمد ہے اور خدشہ ہے کہ ان کا رہا سہا سہارا بھی چھن جائے گا۔

فوٹوگرافر ٹام سٹوڈارٹ نے روہنگیا مسلمانوں کے ان کیمپوں کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات 12 سالہ حسین جوہر سے ہوئی۔

صبح کی ٹھنڈ سے بچنے کے لیے شوخ لال رنگ کی کمبل اڑھے ہوئے حسین جوہر نے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کاکس بازار کے علاقے میں کھیل رہے تھے۔

’میں مدرسے جاتا ہوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کیمپ کا چکر لگاتا ہوں۔ مجھے فٹبال کھیلنا بہت پسند ہے اور میں بہت اچھا کھلاڑی ہوں۔‘

حسین نے اپنے گھر والوں کے ساتھ دس برس کی عمر میں کاکس بازار کا رخ کیا تھا۔ سفر کرنے سے ایک سال قبل ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔

’ہمیں وہاں سے بھاگنا پڑا کیونکہ وہاں تمام روہنگیا کا قتل کیا جا رہا تھا۔ ہم جنگلوں میں تین دن تک بھٹکتے ہوئے یہاں پہنچے۔‘

برٹش ورجن آئی لینڈ کا جزیرہ جوسٹ وان ڈائیک ابھی بھی سمندری طوفان ارما سے آنے والی تباہ کاریوں سے نپٹ رہا ہے۔

ڈؤگی والیس نے طوفان آنے کے چھ ہفتے بعد اس جزیرے کا دورہ کیا اور وہاں آنے والی تباہی کی منظر کشی کی۔

اس جزیرے کو طوفان کی وجہ سے سخت نقصان اٹھانا پڑا تھا اور وہاں پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی اور ساتھ ساتھ سکول بھی بند ہو گئے تھے۔ طوفان کی وجہ سے لکڑی سے بنے مکانات ڈھیر ہو گئے تھے۔

جزیرے کا حجم کیونکہ بہت چھوٹا ہے اور وہ ایسے دور دراز کے مقام پر ہے جہاں امدادی کاروائی اور مشینری کا پہنچنا دشوار ہے۔

والیس نے بتایا: ’ہم چھوٹی سی کشتی لے کر جاسٹ وان ڈائیک تک پہنچے تھے اور ہمیں طوفانی بارشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مجھے اس سے اندازہ ہوا کہ وہاں رہنے والوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وہاں ملنے والے چند لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔لیکن ان تمام مشکلات اور دشواریوں کے باوجود وہ مسکرا کر مل رہے تھے اور خوشی خوشی بات کر رہے تھے اور اس سے میں بہت متاثر ہوا۔‘

اولی برن نے خود ساختہ مملکت صومالی لینڈ کا دوری کیا جہاں انھوں نے قحط سے متاثرہ خاندانوں کی تصاویر لیں۔

ان افراد کی تمام ضروریات ان کے مویشی جانوروں کی مدد سے پوری ہوتی ہے اور قحط کی وجہ سے تین چوتھائی سے زائد جانور مر گئے ہیں۔

اپنے شوہر اور سات بچوں کے ساتھ رہنے والی نیمو ہرگیسیا شہر سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر رہتی ہیں۔

قحط سے پہلے ان کے پاس 30 بکریاں تھیں لیکن اب صرف دس زندہ بچی ہیں۔

جب وہ بکریں مر گئی تھیں تو نیموں نے ان کے مردہ جسموں کو اپنے گھر سے دور لے جا کر دفن کیا تاکہ ان کے بچے نہ دیکھ سکیں۔

’میں انھیں مرنے سے بچا نہیں سکی۔ لیکن مجھے پریشانی ہے کہ جو باقی دس ہیں وہ بھی مر جائیں گی کیونکہ اب یہاں پر گھاس چرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں بچی ہے۔‘

نیمو نے گذشتہ چند برسوں میں صومالی لینڈ میں آنے والی تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا ہے۔

’پہلے یہاں بہت بارش ہوا کرتی تھی اور جانوروں کے لیے بہت سازگار ماحول تھا۔ ہم خوشی خوشی رہ رہے تھے لیکن اب حالات ایسے نہیں ہیں۔

’میں نے اپنی سب سے چھوٹی اولاد کو جنم دیا ہے لیکن میں اس کے سر پر چھت مہیا نہیں کر سکتی۔ میں اس کی حفاظت کے لیے بہت پریشان ہوں۔‘

تمام تصاویر بشکریہ شیلٹر باکس