آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ترکی کی شام میں زمینی کارروائیاں جاری، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس
ترکی نے شام میں کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی پر بین الاقوامی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت جلد اس میں کامیاب ہو جائے گا۔
ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ کرد ملیشیا وائی پی جی کے خلاف کارروائی کے دوران ترکی کی فوج نے شام کی سرحد کے اندر پانچ کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے۔
ترکی کے میڈیا کے مطابق عفرین میں داخلے کے بعد انہیں کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تاہم وائی پی جی کا کہنا ہے کہ انھوں نے دو ترک ٹینک تباہ کر دیے ہیں اور پیش قدمی رک گئی ہے۔
انقرہ نے کہا ہے کہ اس دوران کسی شہروں کو کسی بھی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ لیکن برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ کم سے کم 18 شہری مارے گئے ہیں۔
حالیہ صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیٹو میں ترکی کے نمائندے احمد بیرات نے کہا ہے کہ نیٹو اراکین ترکی کی جانب سے اس حملے کی حمایت کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اگر ترکی کے اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں تو انہیں نیٹو کے لیے اپنی رکنیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف وائی پی جی کو اتحادی بنانا ترکی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
اس سے پہلے ترکی کی زمینی افواج شمالی شام میں داخل ہوگئی ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے کرد جنگجوؤں کو ’بہت جلد‘ کچلنے کا عندیہ دیا ہے۔
کرد ملیشیا وائی پی جی کا کہنا ہے کہ انھوں نے عفرین شہر میں ترک افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور وہ ترکی کے سرحدی علاقوں پر گولہ باری کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ ترک وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اس تنظیم کو امریکی اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں سے بچاؤ کے لیے 'تحمل' کا مظاہرہ کرے۔
ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ترکی کی زمینی افواج شام کے شمالی حصے میں داخل ہو گئی ہیں جس کا مقصد سرحدی علاقے سے کرد جنگجوؤں کا انخلا ہے۔
ترکی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بن علی یلدرم نے کہا کہ اس کارروائی کا مقصد شام کے اندر 30 کلو میٹر گہرا ’محفوظ زون‘ قائم کرنا ہے۔
ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ سنہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔
تاہم کرد جنگجو تنظیم وائی پی جی ملیشیا کا کہنا ہے کہ انھوں نے عفرین میں ترک فوج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو کے مطابق اس کی افواج نے پہلے ہی شام کے علاقے میں پانچ کلومیٹر پیش قدمی کی ہے تاہم 30 کلومیٹر محفوظ زون کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
تاہم وائی پی جی کے ایک ترجمان نوری محمدی کا کہنا ہے کہ ان کے گروپ نے ترکی کی افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے اور ’انھیں واپس جانے پر مجبور کر دیا ہے۔‘
دوسری جانب ترکی کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اتوار کو فضائی اور زمینی کارروائی میں 45 اہداف کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اتوار کو ایک بیان میں شام میں موجود کرد جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ کردستان ورکرز پارٹی کو کچلنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔
انھوں نے کہا: ’ہمارے جنگی جہازوں نے بمباری شروع کر دی اور اب وہاں زمینی آپریشن جاری ہے۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ وائی پی جی عفرین سے فرار ہو رہے ہیں۔ ہم ان کا پیچھا کریں گے۔ خدا جانتا ہے ہم اس آپریشن کو بہت جلد مکمل کریں گے۔‘
ادھر شام کے صدر بشار الاسد نے ترکی کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے جبکہ فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں ایو دریاں نے کہا ہے کہ وہ اس مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلائیں گے۔
اس سے پہلے ترکی کی فوج نے کہا تھا کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے شمال میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک کرد ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔
ترکی شام کے علاقے عفرین سے کرد جنگجوؤں کا انخلا چاہتا ہے جو کہ سنہ 2012 سے کردوں کے کنٹرول میں ہے۔
ترکی نے اس سے پہلے کردوں کے خلاف ایک مکمل فوجی آپریشن کی دھمکی بھی دی تھی۔