ترکی کردوں کے ساتھ امریکی اتحاد قبول نہیں کرے گا: اردوغان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد عندیہ دیا ہے کہ وہ شام میں برسرپیکار کرد فوجیوں کے ساتھ امریکی اتحاد کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ خطے کے مستقبل میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

ان کا اشارہ شام کی کرد وائی پی جی ملیشیا کی جانب تھا جس کے متعلق رواں ماہ کے اوائل میں امریکہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ انھیں مسلح کیا جائے گا۔

اس کے باوجود دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا عہد کیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا: ’ہمارے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں اور ہم انھیں مزید بہتر کریں گے۔‘

ملاقات کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس سے جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے 'نیٹو کے اپنے اتحادی ترکی کی سکیورٹی کے متعلق امریکی عہد اور دہشت گردی کی ہر شکل کا مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا۔'

ترکی وائی پی جی کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور شام میں مزید علاقوں پر ان کے قبضے کو روکنا چاہتا ہے۔

مسٹر اردوغان نے منگل کو کہا: وائی پی جی، پی وائی ڈی کو خطے میں پارٹنر خیال کرنا قطعی ناقابل قبول ہے اور یہ ہمارے عالمی معاہدے کے خلاف جاتا ہے۔‘

انقرہ کا کہنا ہے کہ وائی پی جی کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی توسیع ہے اور اس تنظیم کے خلاف وہ جنوب مشرقی ترکی کے علاقے میں گذشتہ کئی دہائیوں سے برسرپیکار ہے۔

جبکہ امریکہ وائی پی جی کو پی کے کے سے الگ اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں اہم فریق گردانتا ہے۔

نو مئی کو پینٹاگون نے سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کو مسلح کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں وائی پی جی بھی شامل ہے۔ اس میں عرب جنگجو بھی شامل ہیں اور انھیں ایلیٹ امریکی افواج کی حمایت حاصل ہے۔

امریکہ نے یہ فیصلہ دولتِ اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے اس کا قبضہ ہٹانے کے لیے کیا ہے۔ ایس ڈی ایف ابھی طبقہ میں برسرپیکار ہے اور یہ دولت اسلامیہ کے گڑھ سے 30 میل کے فاصلے پر ہے۔

صدر اردوغان نے کہا کہ واشنگٹن میں ملاقات کے دوران انھوں نے امریکہ میں مقیم ترک عالم فتح اللہ گولن کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ انقرہ انھیں گذشتہ جولائی میں تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کا ذمہ دار کہتا ہے لیکن گولن اس کا انکار کرتے ہیں۔

ترکی گولن کو ملک بدر کر کے ترکی واپس لانا چاہتا ہے۔