آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کتاب 'فکشن' اور مصنف 'فراڈ' ہے: ٹرمپ
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے اپنی ذہنی صحت پر ظاہر کیے جانے ولے شبہات کو مسترد کر دیا ہے۔
ان کی ذہنی صحت پر ایک کتاب میں سوال اٹھایا گیا ہے جو کسی بم کے گولے کی طرح گرا تھا۔ انھوں نے کتاب کو 'فسانہ' اور مصنف کو 'فراڈ' کہا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے کتاب کو 'جھوٹ کا پلندہ' کہا تھا۔
ان کا یہ بیان اس سے قبل ٹوئٹر پر ان کی تردید کی کڑی تھا جس میں انھوں نے خود کو 'بہت مستحکم ذہین و فطین' اور 'انتہائی سمارٹ' قرار دیا۔
مائیکل وولف کی نئی کتاب میں کہا گیا ہے کہ صدر کے قریبی مشیر ان کے عہدے کے اہل ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
اس تنازعے نے ریپبلکن پارٹی کے سنہ 2018 کے ایجنڈے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سنیچر کو کیمپ ڈیوڈ میں پارٹی کے سینیئر اراکین سے ملاقات کے بعد انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر وولف کی تفصیل کی تردید کی اور دعوی کیا کہ ان کی کوشش 'افسانوی تصنیف ہے۔'
اپنی ذہنی صلاحیت کے سوال پر انھوں نے کہا: 'میں بہترین کالج میں گیا، میں بہترین طالب علم تھا، وہاں سے فراغت کے بعد میں نے اربوں ڈالر کمائے، بہترین تاجروں میں شمار ہوا، ٹی وی کے شعبے میں گیا جہاں دس سالوں تک زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ جیسا کہ آپ سب نے سنا ہوگا۔'
انھوں نے مسٹر وولف کی ان سے ساڑھے تین گھنٹے باضابطہ ملاقات کے دعوے کی نفی کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا: 'یہ ہوئی نہیں تھی، یہ سب خیالی ہے۔' تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ کسی وقت مصنف نے ان کا انٹرویو ضرور کیا ہے۔
'فائر اینڈ فیوری: انسائڈ دا ٹرمپ وائٹ ہاؤس' نامی کتاب میں صدر ٹرمپ کی تصویر کچھ جلد باز، پالیسی کو سمجھنے سے قاصر اور خود کو دہرانے اور شیخی بازی کی عادت سے مجبور جیسے شخص کی حیثیت سے ابھری ہے۔
اس کتاب کا اثر کیمپ ڈیوڈ کی میٹنگ پر پڑا ہے جہاں اہم ریپبلکن رہنما کو سنہ 2018 کے لیے قانون سازی کی ترجیحات طے کرنا تھی۔
یہ بھی پڑھیے
کتاب فائر اینڈ فیوری کی قبل از وقت جمعے کو فروخت شروع ہو گئی۔ صدر ٹرمپ کے وکلا کی جانب سے اس کتاب کی اشاعت روکنے کی کوشش بھی کی گئی اور یہ کتاب فورا ہی بیسٹ سیلر کی فہرست میں آ گئی۔
اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم انتخابات میں جیت پر صدمے میں آ گئی تھی اور وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں کے مطابق مسٹر ٹرمپ کی 'ذہنی قوت کم ہوتی جا رہی ہے' اور سینیئر انتظامی اہلکاروں نے صدر کو 'احمق' کہا۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے متنازع کتاب کی اشاعت کے بعد کہا ہے کہ انھوں نے صدر ٹرمپ کی ذہنی صحت کے بارے میں 'کبھی سوال نہیں کیا۔'
کتاب کے مصنف مائیکل وولف کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں تقریباً 200 انٹرویوز شامل ہیں۔
کتاب کے مصنف وولف نے کہا وائٹ ہاؤس کے سٹاف نے صدر کو بچے کے جیسا اس لیے کہا کہ 'انھیں اپنی ضروریات کو فوراً پورا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب چیز اسی کے بارے میں ہے۔۔۔ یہ شخص نہ پڑھتا ہے، نہ سنتا ہے۔ وہ پن بال کی طرح جو صرف کنارے کنارے نشانہ لگاتا رہتا ہے۔'
بی بی سی کے شمالی امریکہ کے امور کےمدیر جان سوپل کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں کیے گئے دعوؤں میں سے اگر پچاس فیصد بھی درست ہیں تو یہ ایک خوفزدہ صدر اور انتشار کا شکار وائٹ ہاؤس کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
اس کتاب میں سب سے سنگین الزام جونیئر ٹرمپ اور روسی اہلکاروں کے درمیان ملاقات کو قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے بارے میں کانگریس کے کہنے پر تحقیقات بھی جاری ہیں۔