لبنان کے وزیراعظم سعد حریری سعودی عرب سے فرانس پہنچ گئے

گذشتہ دنوں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والے لبنانی وزیراعظم سعد حریری مذاکرات کے لیے سعودی عرب سے فرانس پہنچ گئے۔

لبنان کے وزیراعظم کا صدر نے ابھی تک استعفیٰ قبول نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لبنانی وزیراعظم سعد حریری نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب چھوڑ کر جا رہے ہیں اور ان کی قید کی اطلاعات غلط تھیں۔

سعد حریری دو ہفتوں سے سعودی عرب میں موجود رہے اور گذشتہ دنوں لبنان کے صدر میشال عون نے پہلی مرتبہ کھلے عام سعودی عرب پر لبنانی وزیراعظم سعد حریری کو قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

مستعفی ہونے والے لبنانی وزیراعظم سعد حریری فرانسیسی صدر امینوئل میکخواں سے ملاقات کریں گے۔

ادھر جرمن وزیر خارجہ کی جانب سے اس الزام کے بعد کہ سعد حریری سعودی عرب میں قید ہیں، سعودی حکام نے اپنے سفیر کو برلن سے واپس بلوا لیا ہے۔

لبنان کے صدر میشال عون نے کہا کہ سعد حریری کی وطن سے غیر حاضری کا کوئی جواز نہیں ہے اور انھوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

صدر نے وزیراعظم کے استعفٰی کے بارے میں کہا کہ جب تک وہ ملک سے باہر ہیں اس کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اپنے استعفے کے بارے میں بات کرنے کے لیے انھیں لبنان واپس آنا پڑے گا اور استفیٰ دینے کی وجوہات بیان کرنا پڑیں گی جن کو دور بھی کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ملکی معاملات کو روکا نہیں جا سکتا اور وہ زیادہ دیر تک انتظار نہیں کر سکتے ہیں۔

سعد حریری نے نومبر کی چار تاریخ کو سعودی عرب سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک وہ لبنان واپس نہیں جا سکے ہیں۔

اتوار کی رات کو سعد حریری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے واپس جانے پر وہ مکمل طور پر آزاد ہیں اور انھوں نے لبنان اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے چھوڑا تھا۔

خیال رہے کہ ایران اور اس کی اتحادی لبنان کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے سعد حریری کو یرغمال بنا رکھا ہے۔