ٹرمپ کے مشیر نے روس سے تعلقات پر جھوٹ بولا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک مشیر نے اعتراف کر لیا ہے کہ انھوں نے روس سے وابستہ افراد سے ملاقات کے بارے میں وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی سے جھوٹ بولا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق جارج پاپاڈوپولس نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب وہ ٹرمپ کے لیے کام کر رہے تھے، نہ کہ اس سے پہلے۔

پاپاڈوپولس نے کہا ہے کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ روسیوں کے پاس ہلیری کلنٹن کے خلاف مواد موجود ہے۔

پاپاڈپولس پر یہ الزامات رابرٹ میولر نے عائد کیے ہیں جو گذشتہ سال امریکی صدارتی انتخابات کے دوران روس اور ٹرمپ کے درمیان سازباز کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

کیا اس سے صدر ٹرمپ متاثر ہو سکتے ہیں؟

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاپاڈوپولس کے اقرار سے امریکی صدر کو نقصان پہنچ سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ ان کی انتخابی مہم سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔

پاپاڈپولس شکاگو سے تعلق رکھنے والے وکیل ہیں۔ وہ ٹرمپ سے کس قدر قریب تھے، اس کا اندازہ اس تصویر سے لگایا جا سکتا ہے جو ٹرمپ نے یکم اپریل 2016 کو ٹویٹ کی تھی۔ اس میں وہ بائیں جانب سے تیسرے نمبر پر بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ٹرمپ کے خارجہ پالیسی سے متعلق سابق مشیر پاپاڈوپولس نے پانچ اکتوبر 2017 کو تسلیم کیا کہ انھوں نے روس کے بارے جاری ایف بی آئی کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔

جب اس برس جنوری میں ایف بی آئی نے ان سے پوچھ گچھ کی تو انھوں نے غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ وہ روس سے وابستہ افراد سے مارچ 2016 میں ملے تھے جب وہ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا حصہ نہیں تھے۔ حالانکہ یہ ملاقات ان کی مہم میں شمولیت کے بعد ہوئی تھی۔

انھوں نے جن لوگوں سے ملاقات کی ان میں سے ایک روسی خاتون شامل تھیں جن کے بارے میں پاپاڈوپولس کا خیال تھا کہ ان کے روسی حکام سے تعلقات ہیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس خاتون کے تعلقات استعمال کر کے ٹرمپ کی انتخابی 'مہم اور روسی حکومت کے عہدے داروں' کے درمیان ملاقات کروانا چاہتے تھے۔

دوسرا شخص، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، لندن کا رہائشی پروفیسر ہے، جس نے کہا تھا کہ اس کے روسی سرکاری حکام سے گہرے تعلقات ہیں۔

بیان کے مطابق پروفیسر نے پاپاڈوپولس میں صرف اس لیے دلچسپی ظاہر کی تھی کہ وہ ٹرمپ کی مہم کا اہم حصہ تھے۔

مبینہ طور پر پروفیسر نے کہا کہ روس کے پاس ہیلری کلنٹن سے متعلق ہزاروں ای میلز ہیں۔ یہ بات انھوں نے پاپاڈوپولس سے لندن کے ایک ہوٹل میں 26 اپریل 2016 کو ملاقات کے دوران کہی۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں پاپاڈوپولس کا کردار محدود تھا اور انھیں ٹرمپ تک رسائی نہیں تھی۔