آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روس سے تعلقات کا معاملہ، ٹرمپ کے داماد سے بھی تفتیش
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق روس کے ساتھ روابط کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کے سینیئر مشیر اور ان کے داماد جیرڈ کشنر بھی ایف بی آئی کی جانچ پڑتال کے دائرے میں ہیں۔
امریکی اہلکاروں نے این بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ تفتیش کے سلسلے میں کشنر کے پاس اہم معلومات ہیں، تاہم لازمی نہیں ہے کہ انھوں نے کسی غلطی کا ارتکاب کیا ہو۔
امریکہ کا وفاقی تحقیقی ادارہ ایف بی آئی 2016 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ممکنہ روسی مداخلت اور ٹرمپ کی انتخابی مہم سے روس کے روابط کے بارے میں تفتیش کر رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات کے دوران ایسی کسی ملی بھگت سے انکار کرتے رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا اس تفتیش سے متعلق کہنا ہے کہ تاریخ میں کسی بھی سیاست دان کے ساتھ اس طرح کا غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا گيا جس طرح سے ان کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ اور یہ صرف انھیں نشانہ بنانے کے لیے ہے۔
امریکہ کی خفیہ ایجینسیوں کا خیال ہے کہ روس نے انتخابات کے دوران اپنی مداخلت سے الیکشن کو رپبلکن پارٹی کے حق میں موڑنے کی کوشش کی۔
این بی سی نیوز نے بعض امریکی افسران کے نام لیے بغیر ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان سے تفتیش کرنے میں دلچسپی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تفتیش کاروں کو شک ہو کہ انھوں نے جرم کیا ہے یا پھر ان کے خلاف کیس درج کیا جائے گا۔
واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ تفتیش کار کشنر کی ان ملاقاتوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں جو انھوں نے امریکہ میں روس کے سفیر سرگے کزلیئک اور ماسکو کے ایک بینکر سرگئی گورکاف کے ساتھ کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مسٹر گورکاف روس میں اس بینک کے سربراہ ہیں جس پر اوباما انتظامیہ نے کرائیما پر روس کے قبضے کے بعد پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ بینک روسی وزیر اعظم دمتری مدیودیف اور دیگر ارکان پارلیمان کے زیر ماتحت ہے۔ اسی بینک نے روس میں ہونے والے 2014 کے سرامائی اولمپک کو فنڈ کیا تھا۔
ٹرمپ کے داماد جراد کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی ملاقات کے دوران بینک پر عائد پابندیوں سے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی۔
واضح رہے کہ اس معاملے کی تفتیش کے لیے ایف بی آئی کے سابق سربراہ رابرٹ مولیر کو گذشتہ ہفتے ہی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
کانگریس بھی انتخابات کے دوران روس کی مبینہ مداخلت اور ٹرمپ کی ٹیم سے مبینہ روابط کے معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں کشنر نے پہلے ہی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی سے روس سے اپنے راوبط کے متعلق بات چیت کرنے سے اتفاق کیا تھا۔
کشنر کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل ایسی کسی بھی تفتیش میں تعاون کریں گے۔
کشنر کے وکیل جیمی گورلک نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ کشنر کو روس سے روابط کے متعلق جو کچھ بھی معلوم ہے اسے انھوں نے رضاکارنہ طور پر سینیٹ کے سامنے بتانے کی پیش کی تھی۔
ان کا کہنا تھا: 'اگر ان سے کسی بھی انکوائری سے متعلق رابطہ کیا گيا تو وہ پھر سے وہی کرنے کو تیار ہیں۔'
ایف بی آئی اور کانگریس دونوں ہی ٹرمپ کی انتخابی ٹیم اور روس کے درمیان ممکنہ روابط سے متعلق تفتیش کرنا چاہتے ہیں اور اب اس کی تفتیش ایف بی آئی کے سابق سربراہ رابرٹ مولیر کے حوالے کی گئی ہے۔
امریکہ کے خفیہ اداروں کا ماننا ہے کہ روس نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کو کامیابی دلوانے کے لیے اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔