روس کے ساتھ رابطوں کی باتیں احمقانہ اور مخالفین کی تخلیق کردہ ہیں: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کے انٹیلیجنس اداروں اور میڈیا کو ان کی ٹیم اور روس کے درمیان رابطوں کی خبروں کی بعد کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے ادارے این ایس اے اور ایف بی آئی پر یہ معلومات غیر قانونی طور پر افشا کرنے کا الزام عائد کیا۔

بعض امریکی میڈیا کا یہ کہنا ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ٹرمپ کے بعض اتحادی مسلسل روسی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے۔

انٹیلیجنس حکام نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ان کے خیال میں روس نے انتخابات کو ٹرمپ کے حق میں کرنے کی کوشش کی۔

ماسکو نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے انہیں غیر مصدقہ قرار دیا۔

روسی حکومت کے ترجمان فیمتری پیکوف نے بدھ کو کہا کہ کہ صدر کے اتحادیوں کے ساتھ رابطوں کے تازہ الزامات حقیقت پر مبنی نہیں۔

جمعرات کو ریکس ٹیرسن بطور امریکی وزیرِ خارجہ پہلی مرتبہ روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات جرمنی کے شہر بون میں جی 20 ممالک کے اجلاس کے دوران ہو گی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل مائیکل فلن نے امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی حکام سے بات چیت کے الزامات پر استعفیٰ دے دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ااین ایس اے اور ایف بی آئی نے ان تعلقات کے حوالے سے خبریں میڈیا کو افشا کیں۔

انھوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ’معلومات غیر قانونی طریقے سے انٹیلیجنس برادری کی جانب سے نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ کو دی گئیں۔‘

لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری ٹویٹ میں انھوں نے ان اطلاعات کو احمقانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ان کے ڈیمو کریٹک مخالفین کی تخلیق کردہ ہیں۔

انھوں نے ٹویٹ کیا کہ ’روس کے ساتھ رابطوں کی باتیں احمقانہ ہیں اور یہ محض ہیلری کلنٹن کی مہم میں ہونے والے غلطیوں کو چھپانے کے لیے ہیں۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر بعد ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’اصل سکینڈل تو یہ ہے کہ ملک کی خفیہ معلومات انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے مٹھائی کی طرح بانٹی جا رہی ہیں۔ یہ غیر امریکی رویہ ہے۔‘