ٹرمپ ’ڈریمر‘ پروگرام منسوخ نہ کریں: پال رائن

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال رائن نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوان غیرقانونی پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنے والا پروگرام منسوخ نہ کریں۔

'ڈریمر' کے نام سے معروف 'ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ ارائیولز' نامی یہ پروگرام سابق صدر براک اوباما کے دور میں شروع ہوا تھا اور اس کے تحت ایسے غیرقانونی پناہ گزینوں کو تحفظ دیا گیا تھا جو بالغ ہونے سے قبل امریکہ میں داخل ہوئے تھے۔

2012 میں شروع ہونے والے اس پروگرام کے تحت تقریباً آٹھ لاکھ افراد کو امریکہ سے بےدخلی سے تحفظ حاصل ہے اور اس کے تحت وہ نوجوان بھی آتے ہیں جو ورک پرمٹ لینے کے اہل ہیں۔

صدر ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اس پروگرام کے فوری خاتمے کا وعدہ کیا تھا اور اب انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس پروگرام کے مستقبل کے بارے میں پیر کو اعلان کریں گے۔

پال رائن نے جمعے کو امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ کانگریس کو اس پروگرام کی درستگی کا موقع دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں انھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی بہتری کا کام کانگریس کا ہے۔'

پال رائن نے کہا کہ 'یہ وہ بچے ہیں کہ جن کا کوئی اور ملک نہیں اور جنھیں ان کے والدین یہاں لائے تھے۔ میرے خیال میں اس کا کوئی قانونی حل ہونا چاہیے۔ ہم اس پر کام کر رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں لوگوں کو ذہنی سکون دینا چاہتے ہیں۔'

خیال رہے کہ اس پروگرام کے تحت بےدخلی سے محفوظ افراد میں سے بیشتر کا تعلق میکسیکو اور لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک سے ہے۔ ان میں سے دو لاکھ سے زیادہ ریاست کیلیفورنیا جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ ٹیکساس، نیویارک اور الینوائے میں مقیم ہیں۔