حکم نامے پر عمل درآمد میں خامیاں موجود ہیں: امریکی سکیورٹی حکام

امریکہ میں سکیورٹی کے حکام نے تسلیم کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات ممالک کےباشندوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے حکم پر عمل درآمد میں کچھ خامیاں موجود ہیں۔

نو منتخب امریکی صدر کی اس پالیسی سے نہ صرف بین الاقوامی ردِ عمل سامنے آیا بلکہ ملک کی قائم مقام اٹارنی جنرل نے بھی اسے چیلنج کیا اور اسی عمل کی پاداش میں انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

ہوم لینڈ سکیورٹی چیف جان کیلی نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ صدر کی جانب سے ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن پر عائد اس پابندی کا نشانہ مسلمان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی دنیا بھر سے مسلمانوں کی اکثریت کو امریکہ تک رسائی حاصل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس 90 دن کے وقت میں حکام کو امریکہ کے امیگریشن نظام کی خامیاں اور خوبیاں سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اور یہ کام کافی تاخیر کا شکار ہوا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایسے ممالک جن کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر امریکہ کو اعتماد کم ہے وہاں کے ویزے کے درخواست دہندگان کی انٹرنیٹ پر تلاش کی ہسٹری، موبائل فون کے کانٹیکٹس اور سماجی رابطوں کی سائٹس پر موجود پروفائلز کا امریکہ خود جائزہ لینے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔

اعلیٰ رپبلکن اہلکار پال ریان کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ مصدقہ کاغذات رکھنے والے بعض لوگ بھی اس سے متاثر ہوئے۔

تاہم انھوں نے اس پابندی کا دفاع کیا اور کہا کہ اس سے دہشت گرد حملوں سے بچاؤ ممکن ہوگا۔

ایک نیوز کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ہوم لینڈ سکیورٹی اور کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اداروں کے سربراہان کا کہنا تھا کہ صدر کے حکم نامے کے بعد سے 720 افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان سے اچھا سلوک کیا گیا۔

سی بی پی کے سربراہ کیون مک ایلینن نے تسلیم کیا کہ نئی پالیسی کے آنے کے بعد عوام اور حکومت کے درمیان کمیونیکیشن بہترین نہیں تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ امریکہ کا پناہ گزین پروگرام اب معطل ہے تاہم 872 پناہ گزینوں کو چھوٹ دی گئی ہے اور وہ رواں ہفتے امریکہ آئیں گے کیونکہ ان کی سفر کی تیاریاں مکمل ہیں اور اب اس موقعے پر انہیں روکنا ان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔

اب بھی کئی امریکی اہلکار ہیں جو اس پالیسی کے مخالف ہیں۔

سینکڑوں امریکی ڈپلومیٹس نے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو ایک میموں بھیجا ہے جس میں اس پالیسی کے حوالے سے اختلاف کا اظہار کیا گیا ہے۔