جنسی غلام بنائی جانے والی خواتین کی ’پہلی‘ ویڈیو
جنوبی کوریا نے ایسی ویڈیو شائع کی ہے جو اُن کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی فوجیوں کے لیے جنسی غلام کے طور پر رکھی جانے والی جنوبی کوریائی خواتین کی ہے۔
یہ ویڈیو چین میں امریکی فوجیوں نے فلمبند کی اور اسے سیول نیشنل یونیورسٹی میں یو ایس آرکائیوز سے تحقیق کاروں نے تلاش کیا ہے۔ تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم کو جنوبی کوریا کی حکومت کی طرف سے مالی معاونت فراہم کی گئی تھی۔
اٹھارہ سیکنڈ کے اس کلپ میں ایک قطار میں کھڑی کئی خواتین ایک چینی فوجی سے بات کرتی نظر آتی ہیں۔ جنوبی کوریا میں کارکنان کے مطابق تقریباً دو لاکھ خواتین کو جاپانی فوجیوں کے لیے زبردستی قحبہ خانوں میں بھیجا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی کوریا سے تھا جب کہ کچھ کا تعلق چین، انڈونیشیا، فلپائن اور تائیوان سے بھی تھا۔
اب تک دوسری جنگ عظیم میں جنسی غلامی کے لیے مجبور کی جانے والی اِن خواتین کے بارے میں معلومات یا تو بچ جانے والوں کی گواہیوں سے ملیں یہ پھر تصاویر کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہUS National Archives
تحقیق پر کام کرنے والی ٹیم کے مطابق یہ ویڈیو امریکی اور چینی فوجیوں کے ایک مشترکہ گروہ نے چین کے یونان صوبے میں فلمبند کی جو پہلے جاپان کے قبضے میں تھا۔ تحقیق کاروں کی ٹیم نے بتایا کہ اس ویڈیو میں دیکھی جانے والی سات کوریائی خواتین کو 1944 میں آزادی ملی اس کے علاوہ ٹیم نے اِن خواتین سے بات کرنے والے چینی فوجی کی نشاندہی کی جو امریکہ اور چین کی مشترکہ فوج کے کپتان تھے۔
اس معاملے پر جنوبی کوریا اور جاپان کے تعلقات ایک طویل عرصے تک جاپان کی طرف سے مناسب معافی یا حرجانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے خراب رہے۔ سنہ 2015 میں دونوں ممالک ایک معاہدے پر پہنچے جس کے مطابق ٹوکیو نے باقاعدہ معافی مانگی اور متاثرین کو آٹھ اعشاریہ تین ملین ڈالر ادا کرنے کی حامی بھری۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر کوریا میں بسنے والے اکثر افراد کے لیے یہ معافی ناکافی ہے اور یہ معاملہ مسلسل تعلقات کی راہ میں حائل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنسی غلام بنائی جانے والی ان خواتین کو ’کمفرٹ وومن‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس سال جنوری میں جاپان نے اُس وقت جنوبی کوریا سے اپنے سفیر کو عارضی طور پر واپس بلا لیا تھا جب ایک کمفرٹ وومن کا مجسمہ بوسان میں جاپانی قونصل خانے کے باہر نصب کیا گیا تھا۔ ایک ایسا ہی مجسمہ سیول میں قونصل خانے کے باہر بھی نصب کیا گیا۔ ٹوکیو کا اصرار ہے کہ دونوں مجسموں کو ہٹایا جائے۔











