ٹرمپ، پوتن ملاقات میں امریکی انتخابات میں مداخلت پر بات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی20 سربراہی اجلاس کے حاشیے پر پہلی ملاقات ہوئی ہے۔

ٹرمپ نے پوتن سے کہا: 'آپ سے ملنا اعزاز کی بات ہے،' جس کے جواب میں پوتن نے کہا: 'مجھے آپ سے مل کر خوشی ہوئی ہے۔'

سوا دو گھنٹے پر محیط ملاقات کے بعد فریقین نے ان موضوعات کی فہرست دی جن پر بات ہوئی۔ ان میں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت بھی شامل ہے۔

ٹرمپ نے ملاقات سے قبل نامہ نگاروں کو بتایا: 'پوتن اور میں نے مختلف موضوعات پر بات ہو گی، اور میرا خیال ہے کہ یہ خاصی اچھی ملاقات رہے گی۔'

پوتن نے ایک ترجمان کی وساطت سے کہا کہ وہ ٹرمپ سے پہلے فون پر بات کر چکے ہیں لیکن وہ بنفسِ نفیس ملاقات جیس نہیں ہوتی۔

اس موقعے پر دونوں نامہ نگاروں کے سوال نظرانداز کے کمرے کے اندر چلے گئے۔

ملاقات کے بعد پوتن نے کہا: 'میری امریکی صدر سے طویل بات ہوئی ہے۔ ہم نے بہت سے موضوعات پر بات کی ہے جن میں یوکرین، شام اور دوسرے مسائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ دو طرفہ مسائل پر بھی بات ہوئی۔'

تاہم فریقین کے درمیان اس پر اتفاق نہیں تھا کہ ملاقات میں روس کی جانب سے ہیکنگ کے الزام پر گفتگو کا نتیجہ کیا نکلا۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ یہ الزامات درست نہیں ہیں۔

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر 'ٹھوس' بات ہوئی، اور صدر ٹرمپ نے صدر پوتن پر کئی مواقع پر دباؤ ڈالا۔

البتہ انھوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں ملک اس بات پر کبھی اتفاقِ رائے حاصل کر سکیں گے۔ 'میرا خیال ہے کہ صدر کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ہم فی الوقت اس اختلافِ رائے سے کیسے آگے بڑھیں۔'

ٹلرسن نے یہ بھی کہا کہ دونوں صدور نے شام کے مستقبل پر بھی بات کی اور اس بارے میں مشترکہ باتوں پر گفتگو ہوئی۔

جی 20 کے اجلاس سے قبل ہیمبرگ میں بہت بڑا مظاہرہ بھی ہوا ہے جس کا عنوان تھا ’جہنم میں خوش آمدید‘۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جرمنی میں جدید ٹیکنالوجی کے صنعتی گڑھ ہیمبرگ میں جی 20 کا اجلاس منعقد کر کے چانسلر انگیلا میرکل یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ایک جمہوری معاشرے میں مظاہرے برداست کرنے کے صلاحیت ہونی چاہیے۔

تاہم ان مظاہروں سے جی20 کے سربراہی اجلاس سے منسلک کئی تقریبات متاثر ہوئی ہیں۔

جی 20 کے سربراہ اجلاس کے حوالے سے اپنی ترجیحات کے بارے میں مسٹر پوتن نے بھی ایک جرمن اخبار میں جو مضمون لکھا ہے اس میں انھوں نے امریکہ سے کہا ہے وہ روس پر لگائی جانے والی وہ پابندیاں اٹھائے جو 2014 میں روس کی جانب سے کرائمیا کو اپنا حصہ بنانے کے بعد لگائی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ مسٹر پوتن نے ماحولیات کے حوالے سے پیرس معاہدہے کی پرزور حمایت کا بھی کہا ہے اور اسے ’ماحولیات سے متعلق طویل المدت قانون سازی کی بنیاد‘ قرار دیا تھا۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ امریکہ کو پہلے ہی پیریس معاہدے سے نکال چکے ہیں۔

اگرچہ اس مضمون میں مسٹر پوتن نے شام کا زیادہ ذکر نہیں کیا، تاہم یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ شام میں کچھ حکومت مخالف گروہوں کی مدد کر رہا ہے جبکہ ماسکو صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا حمایتی ہے۔