جی 20 اجلاس: ٹرمپ، پوتن کا آمنا سامنا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں جی 20 کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلی بار روسی صدر ولادی میر پوتن سے آمنا سامنا ہوگا جبکہ دوسری جانب شہر میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

دونوں سربراہان کے درمیان جمعے کی سہ پہر ملاقات بھی متوقع ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ایک گھنٹے تک جاری رہے گی تاہم بعد میں اس کا دورانیہ 30 منٹ بتایا گیا ہے۔

امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس موقع پر دونوں سربراہان کے درمیان شام اور یوکرین کے تنازعات کے بارے میں بات چیت کی جائے گی۔

دوسری جانب شہر میں احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 70 پولیس اہل کار زخمی ہوگئے ہیں۔

کئی مظاہرین کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ تین پولیس افسران کو ہسپتال منتقل کیا گيا ہے۔

سربراہی کانفرنس کے موقع پر 'ویلکم ٹو ہیل' کے نام سے احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا گيا تھا جس میں تقریباً 12000 مظاہرین شامل ہوئے۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پولیس نے اس میں شامل نقاب پوش مظاہرین کے خلاف کارروائی شروع کی۔

جی 20 کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت عالمی رہنما شرکت کر رہے ہیں جس میں ماحولیات کی تبدیلی، تجارت اور اس جیسے دیگر بڑے مسائل پر بات چيت ہوگي۔

نقاب پوش مظاہرین نے جب بوتلیں اور پتھر پھینکنے شروع کیے تو پولیس نے ان پر تیز دھار پانی اور مرچوں کے پاؤڈر کا چھڑکاؤ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اس وقت کارروائی کرنی پڑی جب سیاہ لباس پہننے والے تقریباً ایک ہزار مظاہرین نے اپنے نقاب ہٹانے سے انکار کر دیا۔ اس دوران گاڑیوں کو آگ لگا نے اور توڑ پھوڑ کے کئی واقعات کی چبریں ہیں۔

پہلی بار جب پولیس سے تصادم شروع ہوا تو مظاہرین نے اپنا مارچ منسوخ کر دیا لیکن وہیں موجود رہے اور دیگر علاقوں کی طرف نکلنے لگے جس سے تشدد دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گيا۔

مارچ کے دوران کئی مظاہرین کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور ڈاکٹروں کو لوگوں کا وہاں پر علاج کرتے ہوئے دیکھا گيا ہے۔

ہیمبرگ میں کانفرنس کے موقع پر 25 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جنھوں نے شہر کے اہم علاقوں کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے تاکہ مظاہرین کو کانفرنس کے مقام تک جانے سے روکا جا سکے۔ کہا جا رہا ہے کہ کانفرنس کے دوران ہیمبرگ میں ایک لاکھ تک مظاہرین پہنچ سکتے ہیں۔

سربراہی اجلاس کے لیے جمع ہونے والے جی 20 کے رہنماؤں کے درمیان آپس میں بہت سے مسائل پر شدید اختلافات ہیں جس میں ماحولیاتی تبدیلی اور تجارت سے منسلک کئی طرح کے معاملات شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانفرنس سے پہلے ہی جرمن چانسلر انگیلا مركل سے ملاقات کر چکے ہیں۔ جرمن حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں کی ایک گھنٹے کی بات چیت میں شمالی کوریا، مشرق وسطی، یوکرین اور جی -20 سے منسلک دیگر مسائل پر بات چیت ہوئی۔

گذشتہ روز ٹرمپ نے پولینڈ میں اپنے ایک خطاب میں روس پر تنقید کرتے ہوئے اس سے 'ذمہ دار ممالک کی کمیونٹی میں شامل ہونے' کی اپیل کی تھی۔

ٹرمپ کا کہنا تھا: 'وہ یوکرین اور دوسری جگہوں پر اتار چڑھاؤ لانے والی اپنی سرگرمیاں بند کریں۔ شام اور ایران جیسے ممالک میں دشمن حکمرانوں کا تعاون کرنا بھی روک دیں۔'

انھوں نے کہا کہ اس کی بجائے: 'روس کو ذمہ دار قوموں کے کمیونٹی کے ساتھ مل کر اپنے مشترکہ دشمنوں سے لڑنے اور مغربی تہذیب کی حفاظت کی کوشش میں شامل ہونا چاہیے۔'

لیکن روسی صدر کے ترجمان دیمتری پیسكوؤف نے کہا کہ روسی صدر کو یہ بات قبول نہیں کہ روس اس علاقے کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا: 'انھیں وجوہات کے سبب ہم دونوں صدروں کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات کا انتظار کر رہے ہیں۔'