آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ کے خودکش حملہ آور
سوموار کی شام مانچیسٹر ایرینا میں ہونے والے کنسرٹ میں ایک 'مرد خود کش' حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 60 کے قریب زخمی ہوگئے۔
برطانیہ ستر کی دہائی میں آئرش علیحدگی پسندوں کی جانب سے ہونے والے دہشتگردی کے متعدد حملوں کو سہہ چکا تھا لیکن 2005 سے وہ خود کش حملہ آوروں سے نبرد آزما ہے۔
مانچیسٹر ایرینا میں دھماکہ کرنے والے 'مرد خود کش' حملہ آور کی ابھی تک شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
مانچیسٹر ایرینا میں ہونے والے خودکش حملے سے پہلے جولائی 2005 میں لندن کی ٹرانسپورٹ پر ہونے والے سلسلہ وار بم حملوں میں چار خود کش حملہ آوروں نے حصہ لیا تھا۔ برطانوی پولیس کے مطابق ان حملہ آوروں کا سرغنہ تیس سالہ صدیق خان کو تصور کیا جاتا تھا۔
لیڈز میں پیدا ہونے والے صدیق خان نے لندن کے ایجویئر روڈ سٹیشن پر سرکل لائن پر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا تھا جس میں حملہ آور سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
خود کش حملہ آوروں میں سے ایک تنویر شہزاد بھی تھے۔ بریڈ فورڈ میں پیدا ہونے والے تنویر شہزاد نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ لیڈز میں گزارا تھا۔ سپورٹس سائنس میں گریجویشن کرنے والے تنویر شہزاد نے سرکل لائن پر آلگیٹ اور لیور پول سٹیشن کے درمیان خود کو دھماکہ سے اڑا لیا تھا۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لندن کے ایک اور خود کش حملہ آور حسیب حسین بھی تھے جو لیڈز کے علاقے ہی میں پیدا ہوئے۔ حسیب حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اور حملہ آور تنویر شہزاد کے بہت قریبی دوست تھے۔ حسیب حسین کی عمر بیس سال سے کم تھی اور اپنے والدین کے ہمراہ رہائش پذیر تھے۔
لندن کے حملہ آوروں صدیق خان، شہزاد تنویر اور حسیب حسین میں ایک قدر مشترک یہ تھی کہ وہ تینوں پاکستانی تارکین وطن کی اولاد تھے جنھوں نے بریڈفورڈ اور لیڈز کے پسماندہ علاقوں میں پرورش پائی تھی۔
لندن کے چوتھے خود کش حملہ آور جرمین لنڈزے تھے۔ جرمین لنڈزے واحد خود کش حملہ آور تھے جو برطانیہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔ جمیکا میں پیدا ہونے والے جرمین لنڈزے ایک سال کی عمر کے تھے جب وہ 1986 اپنی ماں کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔ جرمین لنڈزے نے ویسٹ یارکشائر کے علاقے ہڈرزفیلڈ میں پرورش پائی جہاں اس کی ملاقات لندن حملہ آوروں کے مبینہ سرغنہ صدیق خان سے ہوئی تھی۔
لندن میں خود کش حملوں کے بعد دہشتگردی کا بڑا واقعہ 30 جون 2007 کو سکاٹ لینڈ میں ہوا جہاں دو حملوں آوروں نے پروپین کے ڈبوں سے بھری گاڑی کو گلاسگو ایئرپورٹ میں گھسانے کی کوشش کی۔ اس حملے میں دونوں حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب تو نہ ہو سکے لیکن ایک حملہ آور گاڑی کے جلنے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا۔ دوسرا حملہ آور زندہ پکڑا گیا اور اب بھی برطانیہ کی جیل میں عمر قید کاٹ رہا ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں حملہ آور بلال احمد اور خالد احمد خود کش حملہ آور تھے۔ دونوں حملہ آور انتہائی تعلیم یافتہ تھے۔ بلال احمد ڈاکٹر تھے جبکہ خالد احمد کوالفائیڈ انجنیئر تھے۔