آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میں جانتا ہوں کہ میں زیرِ تفتیش نہیں ہوں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ وہ زیرِ تفتیش نہیں ہیں۔ وہ دو روز قبل ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو نوکری سے برطرف کرنے کے بعد سے تنازعے کی زد میں ہیں، تاہم انھوں نے کومی کو نمائش باز اور شیخی خورہ بتایا۔
صدر ٹرمپ نے این بی سی ٹیلی ویژن چینل سے بات کرتے ہوئے اس برطرفی کی وجوہات بھی بیان کیں۔
کومی اس تفتیش کی قیادت کر رہے تھے جس میں امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت اور ٹرمپ کی صدارتی مہم کے روس سے تعلقات کے الزامات کی چھان بین کی جا رہی تھی۔
صدر ٹرمپ نے ان تحقیقات کو 'ڈھکوسلا' قرار دیا۔
کومی کو برطرف کرنے کے بعد پہلا انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھوں نے کومی سے پوچھا تھا کہ آیا وہ زیرِ تفتیش ہیں یا نہیں۔
'میں نے کہا، اگر یہ ممکن ہے تو مجھے بتا دیں کہ کیا میں زیرِ تفتیش ہوں؟ انھوں نے کہا، آپ زیرِ تفتیش نہیں ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ نے انٹرویور کو بتایا: 'میں جانتا ہوں کہ میں زیرِ تفتیش نہیں ہوں۔'
انھوں نے کومی کی برطرفی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا: 'وہ نمائش باز اور شیخی خورے تھے۔ ایف بی آئی بحران میں تھی۔ میں نے انھیں برطرف کرنا ہی تھا۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔'
وائٹ ہاؤس نے روس سے متعلق تفتیش کی اہمیت کو گھٹا کر پیش کیا ہے۔
تاہم ایف بی آئی کے نئے قائم مقام ڈائریکٹر اینڈریو میکابے نے جمعرات کو کہا کہ 'یہ خاصی بڑی تفتیش ہے۔'
انھوں نے سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کے بارے میں بھی شک پیدا کیا کہ کومی اپنے عملے کا اعتماد کھو بیٹھے تھے۔
'میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ عملے کے ارکان کی بہت بڑی تعداد کے ڈائریکٹر کومی کے ساتھ گہرے اور مثبت تعلقات تھے۔'
ایف بی آئی کے قائم مقام سربراہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کو تفتیش میں پیش رفت کے بارے میں نہیں بتائیں گے، اور اگر تحقیقات میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالی گئی تو وہ سینیٹ کی کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔
رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ بر نے میکابے سے پوچھا کہ کیا انھیں معلوم ہے کہ کومی نے کبھی صدر ٹرمپ کو بتایا ہو کہ وہ زیرِ تفتیش نہیں ہیں؟
میکابے نے جواب دیا کہ وہ جاری تفتیش کے بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے۔
اطلاعات کے مطابق ایف بی آئی کے سابق سربراہ نے اس تفتیش کے لیے مزید رقم طلب کی تھی، اور سینیٹ کے ڈیموکریٹ ارکان نے وزارتِ انصاف سے اس بارے میں معلومات فراہم کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔
ڈیموکریٹ ارکان چاہتے ہیں کہ روسی مداخلت کی تحقیقات کے لیے خصوصی افسرِ استغاثہ تعینات کیا جائے۔
ادھر ایک الوادعی تقریب میں جیمز کومی نے کہا کہ وہ اس فیصلے اور اس کے طریقۂ کار پر وقت صرف نہیں کریں گے۔