آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میکخواں کا فرانس کی تقسیم کی خواہشمند قوتوں سے لڑنے کا عزم
فرانس کے نو منتخب صدر امینیول میکخواں نے انتخابی فتح کے بعد اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ملک کو کمزور کرنے کی خواہشمند قوتوں کے خلاف جنگ لڑتے رہیں گے۔
صدارتی انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق میکخواں نے انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میری لاپین کو 33.9 فیصد کے مقابلے میں 66.1 فیصد سے زائد ووٹوں کے ساتھ شکست دی۔
امینیول میکخواں سنہ 1958 کے بعد ملک میں دو بڑی روایتی جماعتوں کو شکست دینے والے پہلے صدر ہیں انھیں ملک کے کم عمر ترین صدر بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوگا۔
جیت کے بعد امینیول میکخواں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اگلے پانچ سال ایسا کام کریں کہ ان کی مخالف میری لاپین کے حامیوں کے پاس 'مستقبل میں شدت پسندی کو ووٹ دینے کی کوئی وجہ نہ ہو۔'
اپنے پرجوش حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے میکخواں کا کہنا تھا کہ 'آج آپ جیت گئے ہیں۔ فرانس جیت گیا ہے۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا لیکن وہ فرانس کو نہیں جانتے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید کہا کہ کہ فرانس کی معیشت کی بہتری کے لیے یورپی یونین کی منڈیاں بہت اہم ہیں۔ خیال رہے کہ میکخواں نے فرانسیسی معیشت کی شکل تبدیل کر دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔
ان کی فتح کے بعد یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈ جنکر نے بھی کہا ہے کہ فرانس اکثر غلط جگہ پر بےتحاشا رقم خرچ کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے ٹوئٹر پر امینیول میکخواں کو مبارکباد دی ہے اور اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ فرانس کے نومنتخب صدر سے ان کے عوام کے علاوہ یورپ کے کروڑوں شہریوں کی امیدیں بھی وابستہ ہیں۔
انھوں نے میکخواں کی انتخابی مہم کی تعریف کی اور کہا کہ وہ جلد ان سے ملاقات کریں گی اور جرمنی بےروزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فرانس کی مدد کرنا چاہتا ہے تاہم وہ اپنی پالیسی نہیں بدلے گا۔
انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ 'میں فرانس میں بے روزگاری ختم کرنے میں مدد کرنا چاہوں گی، خاص طور پر نوجوانوں کو نوکریوں کے مواقع فراہم کرنے میں۔ ہم اِس پر غور کریں گے کہ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں۔'
البتہ انگیلا میرکل نے نئے صدر کی مستقبل کی کارکردگی کے بارے میں محتاط رویہ اپنایا اور کہا کہ 'میرا خیال ہے کہ ہمیں اُس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب تک وہ اپنا عہدہ نہیں سنبھال لیتے۔ اُس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ ہمارے کیا مشترکہ مفادات ہیں۔ جرمنی کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں نہیں سمجھتی کہ ہمیں اپنی پالیسی تبدیل کرنی چاہیے۔'