امریکہ: صدر ٹرمپ کا غیر ملکی ملازمین کے ویزوں کا دوبارہ جائزے کا حکم

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے حکم نامے کے تحت امریکہ میں اعلیٰ عہدوں پر ملازمت کرنے والے غیرملکیوں کے جزوقتی ویزوں کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

اس حکم نامہ کے تحت اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حکومتی پالیسی پر عمل در آمد کریں جس کے تحت سرکاری منصوبوں میں غیر ملکی کنٹریکٹر بولی نہ لگائیں۔

انھوں نے امریکی ریاست وسکانسن میں ایک فیکٹری کے دورے کے موقعے پر ’امریکی سامان خریدو، امریکیوں کو نوکری دو` نامی حکم نامے پر دستخط کیے۔

یہ حکم ان کے ’سب سے پہلے امریکہ‘ والے انتخابی وعدے کی تکمیل کا حصہ ہے۔

لیکن وہ ابھی ایچ ون بی ویزا پروگرام کے خاتمے کے انتخابی وعدے کی تکمیل سے بہت دور ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ، جسٹس اور ہوم لینڈ سکیورٹی اور ملازمین سے متعلق کے محکموں کو ہدایت دیں گے کہ وہ اس سکیم میں اصلاحات کے لیے تجاویز دیں جن کے تحت امریکی آجر غیر ملکیوں کو امریکہ میں ملازمت دیتے ہیں۔

وسکانسن میں خطاب کے دوران کا کہنا تھا کہ ’اس اقدام سے ہم دنیا کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ملازمین کا دفاع کرنا، اپنی ملازمتوں کو بچانا اور امریکہ کو سب سے اول رکھنا جانتے ہیں۔ `

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ بھی اپنے ماڈلنگ کریئر کے دوران ایچ ون بی ویزے پر ہی امریکہ آئی تھیں۔

گذشتہ برس ڈزنی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ایچ ون بی سکیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والے ملازمین کو ملازمتوں سے الگ کر رہا ہے اور انہی سے جبراً ان کے غیر ملکی متبادل ملازین کو تربیت بھی دلوائی جا رہی ہے۔

امریکہ میں ہر سال 85 ہزار غیر ملکیوں کو ایچ ون بی ویزا پروگرام کے تحت ملک میں آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ ویزا غیر ملکی ’خاص ہنر‘ رکھنے والوں کے لیے مخصوص ہے اور یہ بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کی صنعت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

حکومت 65000 ویزے لاٹری نظام کے تحت جاری کرتی ہے جبکہ باقی 20000 ویزے گریجویٹ طلبہ میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔

حالیہ برسوں میں امریکہ کو اس پروگرام کے تحت ان گنت درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

لیکن امریکی شہریت اور امیگریشن کے ادارے کے مطابق اس سال ان درخواستوں کی تعداد 2016 کی 236000 کے مقابلے میں کم ہو کر 199000 سالانہ ہو گئی ہے۔

ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد انڈین باشندوں کی ہوتی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فیس بک کے 15 فیصد کے ملازمین نے گذشتہ برس عارضی ویزا حاصل کیا تھا۔