شام: حکومت مخالف باغیوں کے حملے کے بعد دمشق میں شدید لڑائی جاری

،تصویر کا ذریعہAFP
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں شام کی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔
دمشق کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دمشق کے مشرق میں شدید لڑائی جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ باغیوں کے اچانک حملے کے نتیجے میں دمشق شہر کے مرکزی علاقے میں بھی گولے گرے ہیں اور راکٹ داغے گئے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے حکومت کی دفاعی لائن کو توڑنے کی کوشش سے قبل جوبر ضلعے میں دو خودکش کار بم دھماکے کیے۔
فوج نے حملے کے جواب میں فضائی حملے کیے جبکہ شام کی سرکاری میڈیا کے مطابق جوبر کے علاقے میں حملے کے لیے خفیہ سرنگوں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دمشق میں حزب اختلاف کے قبضے والے چند ہی علاقے ہیں اور جوبر شہر کے مرکز سے قریب ترین ہے۔ جنگ سے تباہ علاقوں پر قبضے کے لیے ایک جانب باغیوں اور جہادیوں اور دوسری جانب حکومتی فورسز کے درمیان دو سال سے زیادہ عرصے سے لڑائی جاری ہے۔
دمشق میں عالمی خبرساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج نے عسکری اہمیت کے حامل عباسی سکوائر کے تمام راستے بند کر دیے ہیں جبکہ شہر دھماکوں سے لرزاں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانیہ میں مبنی شام کے لیے انسانی حقوق کی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ باغیوں نے برزہ، تشرین اور قابون اضلاع میں سرکاری فورسز کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ان حملوں کی ابتدا کی تھی۔ گذشتہ بدھ کو دمشق کے مرکز میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 31 افراد مارے گئے تھے۔
اس کے بعد ربوہ کے مغربی ضلعے میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔
یہ حملے صد بشار الاسد کے خلاف بغاوت کی چھٹی سالگرہ کے موقعے پر کیے گئے ہیں۔









