’اسرائیل اقوام متحدہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرے گا‘

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرے گا۔

اسرائیل کی جانب سے یہ بیان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے غربِ اردن میں غیر قانونی بستیوں کے قیام کے خلاف قرارداد کی منظوری کے بعد آیا ہے۔

اس سے قبل نتن یاہو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو 'شرمناک' قرار دیا تھا۔

ماضی میں امریکہ نے ایسی قراردادوں کو ویٹو کر کے اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے روایتی امریکی پالیسی ترک کر کے اس مرتبہ اس قرارداد کو منظور ہونے دیا ہے۔

سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 14 نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالے جبکہ امریکہ نے ووٹ ڈالنے سے انکار کر دیا، تاہم اس نے اس موقعے پر قرارداد کے خلاف ویٹو کا حق بھی استعمال نہیں کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل کی قرار داد کی پاسداری نہیں کریں گے۔

'میں نے وزارت خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اقوام متحدہ کے ساتھ تمام تعلقات پر نظر ثانی کریں، بشمول اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے لیے مالی امداد اور اقوام متحدہ کے اسرائیل میں مستقل مندوب کے۔'

یاد رہے کہ یہ قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی تھی تاہم گذشتہ چند روز میں امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد مصر نے اسے موخر کر دیا تھا۔ اس کے بعد سلامتی کونسل کے دیگر ممالک نیوزی لینڈ، سینیگال، وینزویلا اور ملائیشیا نے اس قرارداد کو دوبارہ پیش کیا اور اسے منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس میں طے کی گئی شرائط پر عمل نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس قرارداد کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرامید ہے۔

فلسطین کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ صائب اراکات نے اس قرارداد کو بین الاقوامی قانون کی فتح اور اسرائیل میں شدت پسند عناصر کی شکست قرار دیا۔