عراق میں ایک ماہ کے دوران 1959 سکیورٹی اہلکار ہلاک

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق میں گذشتہ ماہ نومبر میں سکیورٹی فورسز کے 1959 ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یہ تعداد اکتوبر میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے جب عراقی شہر موصل میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا گیا۔

ادارے کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ نومبر میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد 926 ہے جبکہ 930 زخمی ہوئے۔

عراق میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے جان کوبش نے ملک میں ہلاکتوں کی تعداد چوکنا دینی والی ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ موصل اور نينوىٰ کے علاقوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی کوششوں میں ہر شیطانی حربوں کا استعمال کر رہی ہے جس میں عام شہریوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، فائرنگ پوزیشنز کے لیے گھروں کا استمعال اور اس کے علاوہ عام شہریوں کو یرغمال بنانا اور جبری طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا شامل ہے۔

جان کوبش کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز نے موصل میں چھ ہفتوں سے جاری آپریشن میں اعلان کر رہا ہے کہ ان کی ہر ممکن کوشش ہو گی کہ عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے اور اس کے نتیجے میں اکثر سکیورٹی فورسز کو زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

نومبر میں سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ بغداد میں ہوئیں جہاں دولتِ اسلامیہ نے متعدد بم حملے کیے اور اس کے نتیجے میں 152 شہری ہلاک اور 581 زخمی ہوئے۔

صوبہ نينوىٰ میں ہونے 332 افراد ہلاک اور 114 زخمی ہوئے۔

دوسری جانب بین الاقوامی امدادی ادارے آئی سی آر سی نے خبردار کیا ہے کہ موصل کو دولتِ اسلامیہ سے آزاد کرانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور اس کے خیال میں اس وقت 15 لاکھ شہری وہاں محصور ہیں اور وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔