آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شامی افواج کا باغیوں کے ایک اور اہم قصبے پر قبضہ
شام کی سرکاری افواج نے باغیوں کے زیر انتظام علاقوں کو الگ کرنے والے مشرقی حلب کے اہم قصبے پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
سرکاری ٹی وی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ الصاخور کا علاقہ اب شامی افواج کے قبضے میں آگیا ہے۔
گذشتہ ستمبر میں شامی افواج اور اس کے اتحادیوں نے حلب شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بڑے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔
حالیہ دنوں سے جاری شدید لڑائی کے باعث اب تک ہزاروں عام شہری مشرقی حلب میں باغیوں کے زیر انتظام علاقوں کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
جبکہ سینکڑوں خاندان محصور علاقوں میں ہی بے گھر ہوچکے ہیں۔
برطانوی تنظیم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے رہائشیوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے اور وہ حکومت کے زیر کنٹرول مغربی علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔
شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق نقل مکانی کرنے واے افراد کی تعداد 1500 سے زائد ہے جبکہ روس کا کہنا ہے 2500 عام شہریوں نے یہ علاقہ چھوڑا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حلب جو کہ شام کا دوسرا بڑا شہر ہے پر واپس مکمل کنٹرول حاصل کرنا شامی حکومت کا اہم مقصد ہے۔
شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک شامی فوجی کے حوالے سے کہا کہ حکومتی فورسز ’حلب شہر کے مشرقی علاقوں میں مسلسل پیش قدمی کر رہی ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہمارے اینجینیئر باردوی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا رہے۔‘
خیال رہے کہ شامی حکومت نے مشرقی حلب پر واپس قبضہ حاصل کرنے کے لیے 15 نومبر کو پیش قدمی کا آغاز کیا تھا جہاں تقریباً 275000 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ فوج کی جانب سے باغیوں کے خلاف کارروائی میں شدت آرہی ہے۔
برطانوی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اب تک 219 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 27 بچے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خوراک اور ادویات کی شدید قلت بھی پائی جاتی ہے۔