آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دولت اسلامیہ نے 40 لاشیں کھمبوں سے لٹکا دیں: اقوام متحدہ
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ عراق کے شمالی شہر موصل میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے 40 عام شہریوں کو غداری کے الزام میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ بعد میں ہلاک کیے جانے والے افراد کی لاشوں کو کئی علاقوں میں بجلی کے کھمبوں پر لٹکا دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق مرکزی موصل میں دولت اسلامیہ کی جانب سے موبائل فون کے استعمال پر لگائی جانے والی پابندی کو نظر انداز کرنے پر ایک اور شخص کو بھی گولی مار دی گئی ہے۔
خیال رہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز کی جانب سے موصل کو دولت اسلامیہ سے آزاد کرنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان افراد کو خود ساختہ ’عدالتوں‘ کے حکم پر مارا گیا ہے۔
جن 40 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے ان پر آئی ایس ایف یعنی عراقی سکیورٹی فورسز کا ’ساتھ دینے اور غداری‘ کا الزام تھا اور انھیں نارنجی کپڑے پہنائے گئے تھے جس پر یہ الفاظ درج تھے : ’غدار اور آئی ایس ایف کے ایجنٹ‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اقوام متحدہ نے یہ بھی بتایا ہے کہ بدھ کی شام شمالی موصل میں غبت فوجی اڈے پر بھی 20 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا جن پر ممکنہ طور پر معلومات مہیا کرنے کا الزام تھا۔
اقوام متحدہ نے اس کے علاوہ دولت اسلامیہ میں نوجوانوں کی بھرتی پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی ویڈیو میں بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے کہ جاسوسی کرنے والے چار افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ حکومتی افواج نےموصل پر سے دولت اسلامیہ کا قبضہ چھڑانے کے لیے گذشتہ ماہ پیش قدمی کا آغاز کیا تھا۔ موصل شہر 2014 سے دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہے۔
حکومتی فورسز کی جانب سے شروع کے جانے والا آپریشن اب چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے جس میں 50 ہزار عراقی فوجی، سپاہی، پولیس سمیت کرد پیشمرگاہ جنگجو، سنی عرب قبائلی اور شیعہ ملیشیا حصہ لے رہے ہیں۔