الیکشن ڈائری: امریکی انتخابات میں پاکستانی جھلک

    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک

لیجیے ایک دوسرے کے کردار اور ذاتی زندگی پر جملے کسنے کا وقت ختم ہوا کیونکہ آج امریکہ یہ طے کرنے جا رہا ہے کہ اگلا صدر کون ہو گا۔

ان امریکی صدارتی انتخابات پر رپورٹنگ کے دوران بہت سے ایسے مواقع آئے جب محسوس ہوا کہ وائٹ ہاؤس پر اقتدار قائم کرنے کی جنگ جیسے مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو رہی ہے۔

عمران خان کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی انتحابی مہم کے سابق رکن شکایت کرتے نظر آئے کہ وہ کسی کی بات نہیں سنتے، چاہے اس میں ان کا خود ہی کا نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو۔

بالکل جس طرح جب عدالتیں عمران خان کے حق میں بات کرتی ہیں تو وہ ان کی تعریف کرتے ہیں اور جب فیصلہ پسند نہ آئے تو انگلیاں اٹهاتے ہیں، اسی طرح کا رشتہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایف بی آئی کے درمیان نظر آیا۔

ہلیری کی ای میل کی تحقیقات کا اعلان ہوا تو وہ ایف بی آئی کے چیف کے قصیدے پڑهنے لگے اور اب جب ہلیری کو ایک مرتبہ پهر بے قصور قرار دیا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے پرانا راگ پھر سے الاپنا شروع کر دیا ہے کہ یہ نظام ہی بدعنوان ہے۔

ٹرمپ کے حامی بهی کسی سروے، منطق یا حقائق کو تب تک سچ نہیں مانتے جب تک وہ ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو بهی لبرل امریکہ کی سیاسی بلوغت پر دھبہ بتا رہے ہیں۔

تو دوسری طرف ہلیری کلنٹن کی مالی حیثیت وزیر اعظم نواز شریف کی طرح متنازع رہی۔ متعدد امریکی کلنٹن خاندان کے اثاثوں کو اسی شک کی نگاہ سے دیکهتے ہیں جس طرح پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کےاثاثوں کو۔

کسی حد تک امریکی عوام کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ سیکریٹری آف سٹیٹ کے طور پر کام کرنے والی ہلیری کلنٹن نے اپنا سرکاری عہدہ کلنٹن فاؤنڈیشن کے فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا ہو گا۔

ووٹنگ سے صرف ایک ہفتے پہلے ایف بی آئی کی جانب سے ای میلز کی تحقیقات دوبارہ کرنے کے بیان کے بعد جب متعدد سرویز میں ہلیری کی برتری کو دهچکہ پہنچا تو وہ غصے پر قابو نہ پا سکیں۔

انھوں نے فوراً ایف بی آئی پر سیاسی مداخلت کا الزام لگایا جسے بیشتر ماہرین نے نامناسب بیان قرار دیا۔

بیشتر کے خیال میں کلنٹن کے ردعمل نے ریاستی اداروں پر انگلی اٹهانا کا موقع فراہم کر دیا ہے، اور جیت کی صورت میں یہ سوال بهی اٹهایا جا رہا ہے کہ آخر کلنٹن اور ایف بی آئی کے چیف مستبقل میں کیسے مل کر کام کریں گے۔

40 فیصد امریکی پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں جبکہ دیگر آج اپنا حق استعمال کر رہے ہیں۔ انتخابات کا نتیجہ تو بس اب آیا ہی چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکی سیاست اور جمہوریت پستی کی اس گہرائیوں سے نکل پائے گی جہاں اس انتحابی مہم نے اسے دهکیل دیا ہے؟