اگر انٹرنیٹ خواتین چلانے لگیں تو کیا ہوگا؟

خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سینڈی اونگ
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر کے لیے

ہمارا آن لائن تجربہ انٹرنیٹ پر مردوں کی اجارہ داری کے بغیر بہت مختلف ہوتا لیکن اگر ایسا ہوتا بھی تو انٹرنیٹ پر سب اچھا نہ ہوتا۔

29 اکتوبر سنہ 1969 کی رات کو 21 سالہ طالبعلم چارلی کلین ایک کمپیوٹر سکرین کے سامنے جھک کر بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجیلس میں بغیر کھڑکی کے ایک ہلکے سبز رنگ کی دیواروں والے کمرے میں بیٹھے تھے۔

ان کے کمپیوٹر سائنس سپروائزر لیونارڈ کلین راک بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھے انھیں کام کرتا دیکھ رہے تھے کہ اتنےمیں کلین نے ایک لفظ ٹائپ کیا۔ چند ہی لمحوں میں سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ڈیڑھ سو میل دور ایک سکرین پر کلین کا پیغام نمودار ہوا جسے انگریزی حروف ایل او پڑھا گیا۔

یہ دراصل ایک انتہائی برا آغاز تھا کیونکہ کلین کا سسٹم اس وقت کریش کر گیا جب ابھی انھوں نے لاگ اِن کا پورا لفظ بھی نہیں لکھا تھا لیکن پھر بھی دونوں اطراف موجود لوگ خوشی سے نہال ہو گئے۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ دو کمپیوٹرز نے ورچوئلی پیغام رسانی کا عمل مکمل کیا تھا۔ یہ لمحہ انٹرنیٹ کی پیدائش کا لمحہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس وقت اسے آرپانیٹ کہا جاتا تھا، جو ایک ایسا کمپیوٹر سسٹم تھا جو امریکی وزارتِ دفاع کی جانب سے بنایا گیا تھا تاکہ ایک نیٹ ورک پر کمپیوٹرز کے درمیان معلومات بھیجی جا سکیں گی۔

پچاس برس بعد آج انٹرنیٹ چار کمپیوٹرز کے فوجی تجربے سے ایک سویلین اور کمرشل پراڈکٹ میں تبدیل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے ایک گلوبل سائبر سپیس بن گئی ہے۔

ایسی ٹیکنالوجی کو بنانے میں جس کے باعث آپ سکرین پر الفاظ پڑھ سکتے ہیں ہزاروں افراد استعمال ہوئے تھے۔ ان میں سے اکثر خواتین ہیں، جن میں رادیہ پرلمین (جو ایک امریکی انجینیئر اور ریاضی دان جنھوں نے انٹرنیٹ کی راؤٹنگ کو پائیدار اور قابلِ توسیع بنایا)، کیرن سپارک جونز (برطانوی کمپیوٹر سائنسدان جن کا کام اکثر سرچ انجنز کی بنیاد ہے) اور ان کی ہم وطن سوفی ولسن (جن کا بی بی سی مائیکرو ڈیزائن کرنے میں کلیدی کردار ہے اور اے آر ایم مائیکروپروسیسرز بنانے میں بھی جو دنیا کے آدھے سے زیادہ الیکٹرونکس میں پائے جاتے ہیں۔

خواتین

،تصویر کا ذریعہTolga Akmen/AFP/Getty Images)

،تصویر کا کیپشناگرچہ بہت سی خواتین نے اس ٹیکنالوجی کو بنانے میں مدد کی جو انٹرنیٹ کو کم کرتی ہے، لیکن آج جو کمپنیاں اس پر حاوی ہیں وہ بنیادی طور پر مرد چلاتے ہیں

الّنوائے انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی میں ریاضی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر مار ہکس کا کہنا ہے کہ 'خواتین کا کمپیوٹنگ اور پروگرامنگ کے آغاز میں اہم کردار تھا۔'

ڈیم سٹیفنی شرلے جنھوں نے 60 کی دہائی میں خواتین پر مبنی سافٹ ویئر کمپنی بنائی تھی بتاتی ہیں کہ ان کے کردار کو اکثر پذیرائی نہیں ملتی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ حالانکہ خواتین کا اس میں کردار تھا لیکن انٹرنیٹ کا ڈیزائن 'زیادہ تر مردوں کی جانب سے کیا گیا تھا۔

اگر آپ مزید باریکی میں جائیں تو اس میں کردار ادا کرنے والوں میں سٹریٹ سفید فام مرد شامل تھے جن کا تعلق سلیکون ویلی سے تھا۔

لیکن انٹرنیٹ کیسا ہوتا اگر جنسی، نسلی اور صنفی اعتبار سے زیادہ متنوع گروہ اس کا ڈیزائن ترتیب دیتا؟ اگر خواتین اور اقلیتی طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جاتا اور اس کے ڈیزائن میں ان کی رائے لی جاتی۔

اس وقت تاریخ کو واپس جا کر تبدیل کرنا تو ممکن نہیں ہے، لیکن اس فرضی سوال سے یہ سوال کھڑا ہوتا ہے کہ مردوں نے انٹرنیٹ پر کیسے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ یہ نقوش اس کے ڈھانچے اور اس کی ظاہری شبیہ پر بھی موجود ہیں اور ان ذرائع پر بھی جن کو استعمال کرتے ہوئے ہم دوسروں سے بات کرتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ بھی ضروری نہیں ہے اگر خواتین اور اقلیتوں کا اس کی تخلیق میں کردار ہوتا بھی تو سب اچھا ہوتا، تاہم اکثر ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسا ہی ہوتا۔ اگر ایسا ہے تو پھر ان مختلف فیصلوں کا ظاہری خدوخال کیسا ہوتا؟ اور کیا ہمارے پاس متبادل انٹرنیٹ کا تصور ہوتا جو سب کے لیے منصفانہ اور تحفظ دینے والا ہو؟

شیرلوٹ ویب جو یونیورسٹی آف دی آرٹس لندن میں انٹرنیٹ ایکویلیٹی پڑھاتی ہیں اور فیمنسٹ انٹرنیٹ نامی غیر سرکاری تنظیم کی شریک بانی ہیں مانتی ہیں کہ آن لائن دنیا یکسر مختلف ہوتی اگر خواتین اور اقلیتی گروہوں کے ہاتھوں میں فیصلہ سازی ہوتی۔

آج اکثر آن لائن پلیٹ فارمز کو ایک ہی طرح کے نظریے کے مطابق چلایا جا رہا ہے، یعنی صارفین کی معلومات اکٹھی کرنا، ان پر اشتہارات کی بھرمار کر دینا اور اس سے پیسہ بنانا۔

خواتین

،تصویر کا ذریعہCredit: Aimee Dilger/Getty Images

،تصویر کا کیپشنسیاہ فام خواتین سوشل میڈیا پر آن لائن ٹرولز کا خاص طور پر ابتدائی ہدف تھیں

ویب کا ماننا ہے کہ 'سوشل میڈیا اشتہارات، ریوینیو، توجہ اور معیشت کو ترجیح دیتا ہے۔' ان کا ماننا ہے کہ یہ تمام نظریات ایک 'پدرشاہی'، 'سرمایہ دارانہ' اور اکثر کے 'سیاہ فام' ہونے کا باعث ہیں۔ ظاہر ہے کہ خواتین اور اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے چیف ایگزیکٹو بھی منافع کو ترجیح رکھنے والے ہو سکتے ہیں (دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ ممالک میں جہاں کمپنیوں میں زیادہ خواتین بورڈ ممبران ہوں وہ ان کمپنیوں پر بازی لے جاتی ہیں جن میں زیادہ مرد بورڈ ممبرز ہوں۔ ان میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں)۔

تاہم ویب کا ماننا ہے کہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ دیگر بزنس ماڈلز کو اپنانے کے بارے زیادہ کھلے ذہن سے فیصلے کریں۔ مثال کے طور پر ایسی جن میں ماحولیاتی پائیداری، سماجی انصاف، کارپوریٹ ذمہ داری، انسانی حقوق اور مشترکہ آزادی کی عکاسی ہو۔

وہ کہتی ہیں کہ 'میں سمجھتی ہوں کہ اگر زیادہ متنوع افراد فیصلہ سازی کے مراحل پر نظر رکھے ہوئے ہوں تو ایسے مزید ماڈلز سامنے آئیں گے، جن میں مختلف آرا، ثقافت اور ترجیحات ہوں گی۔'

مزید متنوع ٹیم ایک ایسے انٹرنیٹ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتا ہے جو زیادہ بین الاقوامی ہو اور اس میں غیر مغربی ثقافتوں کے حوالے سے زیادہ حساسیت موجود ہو۔ اس سے شرمناک صورتحال سے خود کو بچانے کا موقع مل سکتا ہے جیسے سنہ 2016 میں اس وقت ہوا تھا، جب انڈین سپریم کورٹ نے گوگل، یاہو اور مائیکروسافٹ بنگ سے الٹراساؤنڈ اور پری نیٹل سیکس ٹیسٹنگ سے متعلق سروسرز (جو ملک میں غیر قانونی تھیں) سے اشتہارات ختم کرنے کی بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

انڈیا میں صنفی عدم توازن ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہاں لڑکی ہونے کی صورت میں رحم میں بچہ ضائع کرنے شرح بہت زیادہ ہے۔

سرچ انجنز کو اس ٹیسٹنگ سے متعلق 43 کی ورڈز بلاک کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔

واشنگٹن ڈی سی کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں قانون اور ٹیکنالوجی کے پروفیسر انوپم چندر کا کہنا ہے کہ 'اگر زیادہ افراد غیر سفید فام ہوتے تو اس بات کے بارے میں زیادہ حساسیت ہوتی کہ جب ہم کسی دوسرے ملک میں کام کرنے لگیں گے تو ہمیں مقامی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے مخـصوص ثقافتی علم ہونا ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کچھ قابلِ اعتراض ہو رہا ہے۔'

اگر خواتین اور اقلیتوں کے ہاتھ میں انٹرنیٹ کا کنٹرول ہوتا تو وہ حفاظتی خصوصیات پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ بہت مختلف انداز میں آن لائن مواد کا نظام چلاتیں۔

خواتین

،تصویر کا ذریعہTolga Akmen/AFP/Getty Images

،تصویر کا کیپشنخواتین اکثر دنیا کو اس انداز سے دیکھ سکتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان میں ایسے مسائل دیکھنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جو بصورت دیگر مردوں کو محسوس نہیں ہوتا

سرچ انجن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم غیر قانونی، جعلی اور نقصان دہ مواد کی نشان دہی کے لیے مصنوعی ذہانت اور انسانی منتظم کے امتزاج پر انحصار کرتے ہیں۔

ایری والڈمین نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی میں قانون اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آن لائن مواد کے قوانین غیر متناسب طریقے سے ایسا ہر مواد ہٹا دیتے ہیں جو سسٹم میں بنائی جانے والی روایات اور انسانی منتظمین کے نزدیک درست نہیں ہوتا۔

کیرولینا آر برطانیہ کی نارتھ امبریا یونیورسٹی میں آن لائن گالم گلوچ پر تحقیق کر رہی ہیں۔ وہ پروفیسر ایری والڈمین سے متفق ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مواد پر کنٹرول ویسا ہی ہے جیسا کسی پدرانہ معاشرے میں ہوتا ہے یعنی خواتین اپنے جسم کے ساتھ کیا کر سکتی ہیں اور کیا نہیں اور پھر اگر وہ ایک مخصوص طےشدہ راستے سے ہٹ کر کام کریں تو ان کو سزا دینے کی روایت ہے۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ اگر انٹرنیٹ کی باگ دوڑ خواتین کے ہاتھ میں ہوتی تو یہ بہت مختلف جگہ ہوتی۔

خواتین

،تصویر کا ذریعہRenata Angerami/Getty Images

،تصویر کا کیپشنحفاظتی خصوصیات جو کمزور گروپوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے میں مدد کرتی ہیں وہ پہلے مرحلے سے تیار کی جا سکتی تھیں

کیرولینا آر ایک پول ڈانسر بھی ہیں اور باقاعدگی سے اپنی تصاویر اور ویڈیوز آن لائن پوسٹ کرتی ہیں۔ ان میں نہ تو برہنگی ہوتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کا جنسی مواد لیکن پھر بھی ان کے ٹک ٹاک اور انسٹا گرام اکاونٹ کو کبھی معطل کیا گیا اور کبھی اس طرح ختم کر دیا گیا کہ ان کو فوری طور پر معلوم بھی نہیں ہو سکا۔

تازہ ترین واقعے کے بعد انسٹا گرام نے ان سے رابطہ کیا اور ان کو بتایا کہ ایک دن بعد ان کا اکاونٹ بحال کر دیا گیا۔ ان سے کہا گیا کہ معطلی کی وجہ ایک غلطی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ کبھی کبھار خواتین پر صرف ان کے جسم کی وجہ سے پابندی لگا دی جاتی ہے حالانکہ انھوں نے کسی قسم کا جنسی عمل نہیں کیا ہوتا۔

وہ بتاتی ہیں کہ ان کی چند سہیلیاں، جو سیاہ فام اور صحت مند ہیں، ’جب اپنی بکنی پہنی پوسٹس لگاتی ہیں تو ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ ان کا اکاونٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔‘

’جیسے ہی وہ اپنی تصویر لگاتی ہیں، ایسی وارننگ آ جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ خودکارانہ کنٹرول کے نظام کے تحت ہوتا ہے۔‘

’یہ مردوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔ واضح طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم چلانے والوں کی نظر میں عورت ہونا جنسی سرگرمی کے مترادف ہے۔‘

ان کا ماننا ہے کہ اگر خواتین اور اقلیتوں کے پاس کنٹرول ہو تو لوگ ردعمل یا سنسر شپ کے خوف کے بغیر اپنے خیالات کا بہتر طریقے سے اظہار کر سکیں گے۔

سوزی ڈن کینیڈا کی ڈلہوزی یونیورسٹی میں قانون کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اکثر انٹرنیٹ پر ایسا مواد دیکھتے ہیں جو خواتین کے بارے میں منفی خیالات اور ان کی جنسی شناخت کے پنپنے میں کردار ادا کرتا ہے۔

صفیا نوبل یو سی ایل اے میں انفارمیشن سٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ 2018 میں ’الگوردھم آف اوپریشن‘ نامی کتاب میں انھوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ کیسے سیاہ فام، لاطینی، ہسپانوی یا ایشیائی لڑکیوں کی تلاش اکثر پورن سائٹس کی جانب لے جاتی ہے۔

اقوام متحدہ نے 2013 میں آگہی پھیلانے کی مہم کے دوران اس نکتے پر زور دیا کہ گوگل میں آٹو سرچ انجن میں جب ’خواتین یہ کریں‘ کا لفظ ٹائپ کیا جاتا ہے تو نتائج میں ایسے جواب آتے ہیں کہ ’گھر میں رہیں، غلام بن جائیں، باورچی خانے میں رہیں۔‘

جب کہ ’خواتین یہ نہ کریں‘ کے نتائج میں ’حقوق نہ لیں، ووٹ نہ کریں یا کام نہ کریں‘ جیسے سامنے آتے ہیں۔

نوبل لکھتی ہیں کہ انٹرنیٹ پر کسی قسم کی تلاش نسلی امتیاز کی شکل میں بھی واضح ہوتی ہے۔ انھوں نے مثال دی کہ کیسے خوبصورت یا پروفیسر جیسے لفظ ٹائپ کرنے پر زیادہ تر سفید فام لوگوں کی تصاویر ہی نظر آتی ہیں۔

ایک اور مثال میں انھوں نے لکھا کہ کام کی جگہ پر غیر روایتی ہیئر سٹائل کی تلاش کی جائے تو سیاہ فام خواتین کی تصویریں سامنے آتی تھیں جس پر دو ہزار سولہ میں کافی شور مچا۔

جانتھن کوہن البرٹا یونیورسٹی میں ڈیجیٹل ثقافت پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خاتون یا لڑکی کا لفظ ہی لکھا جائے تو زیادہ تر تصاویر سفید فام افراد کی ہوتی ہیں جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجیز کی جانب سے آغاز میں ہی اپنائے جانے والے طریقوں کا نتیجہ ہے جن پر اس وقت زیادہ سوچ بچار نہیں کی گئی تھی۔

ان تمام مسائل کے باوجود انٹرنیٹ خواتین اور اقلیتوں کے لیے ہمیشہ ایک تاریک جگہ نہیں ہے۔ انٹرنیٹ نے ان کو اپنے تجربات پھیلانے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کیا۔ مثال کے طور پر می ٹو یا بلیک لائیوز میٹر جیسے ہیش ٹیگ کے ذریعے عالمی طور پر جنسی ہراسانی، نسلی امتیاز کے خلاف تحریک چلی۔

سوزی ڈن کہتی ہیں کہ انٹر نیٹ نے ایسے لوگوں کو بھی آواز دی جن کا تناسب کم ہے اور اس کے ذریعے وہ ایسا مواد بنا سکتے ہیں جو ان کی زندگی کی درست نمائندگی کر سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ثقافتی طور پر دیکھا جائے تو بہت سے لوگوں کو برادری کا احساس ملا۔ ’میں شمالی کینیڈا میں پلی بڑھی اور فرض کریں اگر آپ یکون کے علاقے میں واحد ٹرانس جینڈر نوجوان ہیں تو انٹرنیٹ کی مدد سے آپ اپنے جیسے دوسرے افراد کو تلاش کر سکتے ہیں۔‘ واضح رہے کہ یکون کینیڈا کا سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ایسے افراد کے گروہ جو ماضی میں خود کو تنہا محسوس کرتے تھے اب آن لائن دنیا میں اپنی جگہ تلاش کر لیتے ہیں۔

لیکن اگر ہم ایک ایسے متبادل انٹرنیٹ کا تصور کریں جس کا کنٹرول خواتین اور اقلیتوں کے ہاتھ میں ہو، تو ماہرین تنبیہ کرتے ہیں کہ ایسی کسی صورت کو بہترین نہ سمجھا جائے۔

ان کے مطابق انٹرنیٹ کی دنیا میں کمائی اور منافع کا پہلو پھر بھی اہم رہے گی۔ ویلڈ مین کا کہنا ہے کہ آپ سیاہ فام ہیں یا کچھ اور آپ پھر بھی دوسروں کا ڈیٹا کریدنے والے سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ ہو سکتے ہیں۔

’اس بات کی بھی کوئی یقین دہانی نہیں کہ اگر خواتین اور اقلیتیں اس مقام پر پہنچ جائیں تو وہ مردوں سے مختلف برتاؤ کریں گے۔‘

ہکس کا خیال ہے کہ اگر ہمارا معاشرتی تنظیم میں خواتین کی سربراہی ہوتی اور ان کے پاس ساری طاقت ہوتی تو وہ بھی وہی کرتیں جو ان کا دل چاہتا ہے چاہے اس کے جو بھی نتائج ہوں۔ ’ہم ایسی ہی کسی مسائل سے بھرپور صورت حال کا سامنا کر سکتے ہیں۔‘

ابیگیل کرلیو اوٹاوا کی کارلٹن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متبادل انٹرنیٹ ایک متنوع جگہ کی شکل میں ہو سکتی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ محض خیالی ہی نہ ہوں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ کے بیشتر مسائل اصلی دنیا میں ہی جنم لیتے ہیں۔

للین ایڈورڈز برطانیہ کی نیو کیسٹل یونیورسٹی میں قانون، اختراع اور معاشرے کی پروفیسر ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا تو معاشرے کو ایک آئینہ دکھاتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین اور اقلیتوں کو آن لائن دنیا میں جن مسائل کا سامنا ہے، ان کے حل کے لیے اصلی دنیا میں ان کو درپیش تشدد اور امتیاز کا قلع قمع کرنا ہو گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو بہتر تعلیم، طبی سہولیات اور گھر جیسی سہولیات تک رسائی ملے تاکہ معاشرے میں ان کا مقام مضبوط ہو۔

کرلیو بھی اس سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کمیونٹیز مضبوط ہوتی ہیں تو لوگ کم پرتشدد ہو جاتے ہیں اور تنازعات بھی کم جنم لیتے ہیں۔

انٹرنیٹ پر تبدیلی کے لیے ہمیں اصلی زندگی میں بڑی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ شاید تبھی، اس بات سے بالاتر کہ انٹرنیٹ کا کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے ہم اس انٹرنیٹ کی جانب لوٹ سکیں جو کلائن کا اصل مقصد تھا جب انھوں نے اپنے چھوٹے کمرے سے ’لو‘ لفظ کا پیغام بھیجا تھا۔