پاکستانی ایتھلیٹس دنیا سے پیچھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک وقت تھا جب اولمپکس کوچھوڑ کر شاید ہی کوئی بین الاقوامی اور ایشیائی مقابلہ ہوگا جس میں پاکستانی ایتھلیٹس نے طلائی تمغے نہ جیتے ہوں۔ یہی نہیں بلکہ ایشین گیمز کے نئے ریکارڈ کے ساتھ پاکستان کے عبدالخالق ایشیا کے تیز ترین ایتھیلٹ بھی قرار دیے گئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب عبدالخالق، غلام رازق ،نواز ،اقبال اور مبارک شاہ کسی بین الاقوامی مقابلے میں شریک ہوتے تو ان کے مدمقابل انہیں آسان سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ پاکستانی ایتھلیٹکس کے سنہرے دور کا اندازہ کامن ویلتھ گیمز میں دو طلائی تین نقرئی اور کانسی کے چھ تمغوں اور ایشین گیمز میں سونے کے دس چاندی کے نو اور کانسی کے دس تمغوں کے ذریعے باآسانی لگایا جاسکتا ہے لیکن اس کے بعد یہ شاندار کارکردگی صرف سیف گیمز تک محدود ہوکر رہ گئی۔ پاکستان میں آج ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلے صرف دو اداروں ’آرمی‘ اور ’واپڈا‘ کی وجہ سے زندہ ہیں۔ انہی دو اداروں کے ایتھلیٹس قومی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں نمایاں نظر آتے ہیں۔ لیکن بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ایتھلیٹس کی غیرمعمولی کارکردگی نظرنہیں آتی اور انہیں عالمی چیمپئن شپ اور اولمپکس میں شرکت کے لئے وائلڈ کارڈ انٹری کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن کے خیال میں پاکستانی ایتھلیٹکس کو زوال اچانک نہیں آیا بلکہ آہستہ آہستہ اسے موجودہ مقام پر لایا گیا اور کئی لوگ اس تباہی کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں بریگیڈئر روڈیم اور ان کے ساتھیوں کی محنت کے نتیجے میں حاصل کردہ کامیابیوں پر ہی اکتفا کیا اور مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کی۔ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن کو اس بات کا افسوس ہے کہ انہوں نے کھیلوں میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی سوچ کے تحت اکیڈمیز کے قیام کی تجویز پیش کی تھی جو حکومت نے منظور نہیں کی کیونکہ اس کی ترجیح مختصر دورانیئے کی منصوبہ بندی پر ہے۔ پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن (پی اے ایف) کے سیکریٹری خالد محمود تسلیم کہتے ہیں کہ پاکستانی ایتھلیٹس کا معیار پڑوسی ملکوں سے کم ہے جس کی وجہ سہولت کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریک اینڈ فیلڈ کا سامان بہت مہنگا ہوگیا ہے۔ اسکولز کالجز میں ایتھلیٹکس ختم ہوکر رہ گئی ہے اور والدین نہیں چاہتے کہ ان کا بچہ کوئی ایسا کھیل کھیلے جس میں کوئی مستقبل نہ ہو۔ خالد محمود کا کہنا ہے کہ فیڈریشن صوبائی ایسوسی ایشین کے تعاون سے ٹیلنٹ تلاش کرکے ایک اکیڈمی قائم کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے جہاں بچوں کو تعلیم بھی دی جائے گی۔ زینت رضوی اسلامک گیمز میں شاٹ پٹ کی ریکارڈ ہولڈر ہیں اور حمیرا اکمل نے حال ہی میں پول والٹ کا نیا قومی ریکارڈ قائم کیا ہے دونوں کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں پاکستانی ایتھلیٹس کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع زیادہ مل رہے ہیں۔’ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایتھلیٹس کو کیمپ میں بھرپور ٹریننگ ملنی چاہیے تاکہ وہ خود کو بڑے مقابلوں کے لئے تیار کرسکیں‘۔ پاکستان آرمی سے تعلق رکھنے والے ایتھلیٹ نوشاد علی کی خواہش ہے کہ وہ محمد یونس جیسی شاندار کارکردگی دکھا سکیں۔محمد یونس نے1974ء کے تہران ایشین گیمز میں پندرہ سو میٹرز میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا۔ ٹریک اینڈ فیلڈ مقابلوں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر کسی کھیل نے عروج کے بعد زوال دیکھا ہے تو پھر اسے دوبارہ عروج بھی نصیب ہوا ہے۔ پاکستانی ایتھلیٹکس آج اگر مشکل حالات سے دوچار ہے تو اس کا کل آج سے مختلف ہوگا۔ | اسی بارے میں عالمی ایتھلیٹک چیمپئن شپ09 August, 2005 | کھیل انجو کی تاریخی چھلانگ31 August, 2003 | کھیل لیما عظیمی: افغان اسپورٹس کی خاتون اول23 August, 2003 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||