ایران مخالف مظاہرہ، تماشائی برہم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی کپ فٹبال میں ایران کے پہلے میچ سے قبل جرمنی کے شہر نیورمبرگ میں سینکڑوں افراد نے ایران کے صدر محمود احمد نژاد کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ شہر کا ایک مرکزی چوراہا مظاہرین سے بھرگیا جہاں ہر طرف اسرائیلی پرچم نظر آ رہے تھے۔ مظاہرین کے احتجاج کا مرکزی نکتہ ایران صدر کا یہودیوں کے قتلِ عام کی حقیقت کو مشکوک بنانا تھا۔ اس موقع پر مظاہرین نے کہا وہ ایرانی کی ٹیم کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن ایرانی تماشائیوں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس مظاہرے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ سیاست اور فٹبال الگ الگ چیزیں ہیں۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے ایک بیان میں نازیوں کے ہاتھوں یورپ میں ہونے والے یہودیوں کے قتل عام کو ایک مفروضہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے ٹی وی پر دکھائے جانے والے ایک براہ راست پروگرام میں کہا تھا: ’انہوں نے ایک کہانی گڑھ لی ہے جسے وہ یہودیوں کا قتل عام کہتے ہیں اور اب وہ اسے خدا، مذہب اور پیغمبروں سے بھی اونچا درجہ دیتے ہیں۔‘ ’اگر کوئی ان کے سامنے خدا کی ذات، یا مذہب یا پیغمبروں سے انکار کرے تو وہ کچھ نہیں کہتے۔ مگر اگر کوئی یہ کہہ دے کہ یہودیوں کا قتل عام نہیں ہوا تو صہونیوں کے تمام ترجمان اور حکومتوں میں ان کے حامی چِلّانا شروع کر دیتے ہیں۔‘ | اسی بارے میں فٹبال ورلڈ کپ 200608 June, 2006 | منظر نامہ فٹبال عالمی کپ، ورچوئل ری پلے11 June, 2006 | کھیل افتتاحی میچ میں جرمنی کی فتح09 June, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||