BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 June, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیاسے کھلاڑیوں کی درخواست
ماہرین کہتے ہیں کہ انگلینڈ ٹیم کو ذہن میں رکھنا چاہیئے کہ اگلے دنوں میں اس کے میچ پھر دوپہر کو ہونگے جب گرمی زیادہ ہوگی
انگلینڈ کی فٹبال ٹیم کے اہلکاروں نے فیفا سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ورلڈ کپ کے میچوں کے دوران کھلاڑیوں کو پینے کی چیزوں تک آسانی سے رسائی ہو۔

فیفا کو یہ درخواست گزشتہ روز انگلینڈ اور پیراگوئے کے درمیان فرینکفرٹ میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے گرمی سے متاثر ہونے کے بعد کی گئی ہے۔

کھلاڑیوں کو میچ کے دوران سیال چیزوں کی بہت زیادہ مقدار کی ضرورت پڑی اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے پیراگوئے کے خلاف میچ کے دوران بہت زیادہ پانی پیا۔

لیکن کل کے میچ کے دوران ایسے مراحل بھی آئے جب انگلینڈ ٹیم کے عملے کو اپنے کھلاڑیوں تک پانی پہنچانے میں کافی دشواریاں پیش آئیں۔

ایف اے کے ترجمان ایڈرین بےونگٹن کا کہنا ہے: ’ہم اس معاملے پر کوئی شکایت تو نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم فیفا سے بات ضرور کریں گے کیونکہ طبی عملے کو اس صورتِ حال پر تشویش ہے۔‘

انہوں نے کہا عام حالات میں ہمارے کھلاڑیوں کو تقریباً بیس لٹر پانی درکار ہوتا ہے لیکن پیراگوئے کے خلاف میچ کے دوران انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو ستر لٹر پانی کی ضرورت پڑی۔

گزشتہ روز میچ کے دوران درجۂ حرارت تیس سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا

’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتنا زیادہ پانی درکار ہے اور اہم بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو فوری طور پر پانی اور سیال چیزوں تک رسائی ہونی چاہئیے۔ یہ بھی اہم ہے کہ اس طرح کے شدید (گرم) موسم میں کھیلے جانے والے میچ میں ریفری ایسی صورتِ حال کو ذہن میں رکھے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر میچ کے دوران کسی ٹیم کو تھرو اون یا گول کک کا وقفہ ملے تو ریفری کو چاہیئے کہ وہ وقفے کا دورانیہ کچھ سیکنڈ بڑھا دے تاکہ کھلاڑی اگر کچھ پینا چاہیں تو پی سکیں۔

دریں اثناء انگلینڈ کے کھلاڑی جو کول نے کہا ہے کہ انگلینڈ کو جرمنی میں شدید گرم موسم میں کھیلنے کے لیئے خود کو موسم کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

انہوں نے یہ بات تسلیم کی کہ کھلاڑیوں کی توانائی گزشتہ روز کے میچ میں ختم ہوگئی تھی کیونکہ میچ کے دوران درجۂ حرارت تیس درجہ سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

’میں یہ نہیں چاہتا کہ یوں لگے جیسے میں بہانے کر رہا ہوں مگر کل کی گرمی نے واقعی کھلاڑیوں کو بہت بے حال کیا۔ کل کا میچ کھیلنا بہت دشوار ثابت ہوا کیونکہ ہم ایسے گرم موسم میں کھیلنے کے عادی نہیں ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ گرمی دوسری ٹیموں کے لیئے بھی ہے لیکن ہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بہتر کھیل پیش کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

اسی بارے میں
فٹبال ورلڈ کپ 2006
08 June, 2006 | منظر نامہ
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد