کرکٹر شجاع الدین بٹ نہیں رہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرنل شجاع الدین بٹ پاکستانی کرکٹ کے ابتدائی دنوں کے کرکٹرز میں شامل تھے۔ گوکہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے محدود مواقع میسر آئے اور ان کے ٹیسٹ کرکٹ میں اعدادوشمار بھی بہت زیادہ متاثر کن نہیں رہے لیکن کرکٹ کے حلقوں میں انہیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے ساتھی کرکٹرز ان کے انتقال پر افسردہ ہیں۔ حنیف محمد نسیم الغنی مشتاق محمد اور علیم الدین کا کہنا ہے کہ وہ کرکٹ سے سچی محبت کرنے والے شخص سے محروم ہوگئے ہیں۔ بحیثیت کرکٹر میدان چھوڑنے کے بعد بھی ان کی اس کھیل سے محبت بھرپور انداز میں برقرار رہی وہ کافی عرصے تک کمنٹری باکس میں ماہرانہ رائے دیتے نظرآئے۔ان کے تجزیئے اور تبصرے بے لاگ ہوتے تھے اپنی رائے کے اظہار میں وہ مصلحت پسندی کا کبھی بھی شکار نہیں ہوئے۔ 77-1976ء میں انہیں مشتاق محمد کی قیادت میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی ٹیم کا منیجر مقرر کیا گیا۔آسٹریلوی پریس کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ کسی بھی غیرملکی ٹیم کے آسٹریلیا پہنچتے ہی وہ زبانی جنگ شروع کردیتا ہے۔ پاکستانی ٹیم کو بھی اس نے دباؤ میں لینے کی کوشش کی لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسے جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کرنل شجاع الدین نے اس دورے میں آسٹریلوی میڈیا کا ترکی بہ ترکی جواب دیا خاص کر ان کے وہ ریمارکس خاصے دلچسپ تھے جن میں انہوں نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا ان کی تعلیمی قابلیت کے ساتھ موازنہ کیا تھا۔ کرنل شجاع الدین لکھنے پڑنے والے کرکٹر تھے۔ انہوں نے پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ اور روایات کو تحریری شکل میں دیتے ہوئے دو کتابیں تصنیف کیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے تعلق رکھتے ہوئے وہ لیفٹننٹ کرنل کے عہدے پر ریٹائر ہوئے۔ وہ سن 70 کی پاک بھارت جنگ میں جنگی قیدی بھی رہے۔ | اسی بارے میں کرکٹر فضل محمود انتقال کر گئے30 May, 2005 | کھیل ’بابائے سوشلزم‘ کا انتقال12.09.2002 | صفحۂ اول یحییٰ بختیار انتقال کر گئے27.06.2003 | صفحۂ اول راہی، راہئ ملک عدم02.09.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||