BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر قانونی ایکشن ہے کیا؟
شبیر احمد
پچھلے نو ماہ میں شبیر احمد اور شعیب ملک کے ایکشن کے خلاف یہ دوسری شکایات ہے
انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ملتان میں ہونے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ کے بعد پاکستانی بولرز شعیب ملک اور شبیر احمد کے ایکشن پر اعتراض ہوا ہے اور ان کو ایک بار پھر آئی سی سی کو رپورٹ کر دیا گیا ہے۔

آئی سی سی کےمطابق مروجہ قواعد وضوابط کے تحت دونوں بولرز بائیو مکنیک ماہرین کی رپورٹ آنے تک بدستور کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔

آئی سی سی کے نظریے میں مشکوک بولنگ ایکشن ہے کیا اور ایسی شکایات کا جائزہ لینے کا طریقہ کار ہے کیا؟ اس کے بارے میں کچھ اہم سوالات کے جواب یہ ہیں۔

صحیح یا قانونی بولنگ ایکشن کیا ہے؟
آئی سی سی کے قانون 24.3 کے تحت جائز بولنگ ایکشن وہ ہوتا ہے جس میں بولر ڈیلوری کے دوران بازو کے کاندھے کے برابر پہنچنے تک کہنی کو پوری طرح سے سیدھا نہیں رکھتا۔ اس سے بولر کو ڈیلیوری سِونگ میں اپنی کلائی موڑنے یا استعمال کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

’تھرو‘ یا ’چکنگ‘ کیا ہے؟
چکنگ یعنی غیر قانونی ایکشن وہ ہے جس میں کہنی کا کافی استعمال کیا جاتا ہے۔ کہنی کے زیادہ موڑ نے سے بولر کو نا جائز فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ کیونکہ ڈیلیوری میں مزید رفتار آتی ہے۔ اس کو کنٹرول کرنے کے لیے آئی سی سی نے بازو کے جھکاؤ کا حد پندرہ ڈگری تک مقرر کر دیا ہے۔

پندرہ ڈگری کی حد کس نے مقرر کی؟
آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے اس سلسلے میں کئی سابق بین الاقوامی کرکٹرز کو نِئے قواعد مقرر کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ اس پینل میں سات سابق کرکٹرز شامل تھے: سنیل گواسکر، مائکل ہولڈنگ، ٹِم مئے ، اراوِندا ڈی سِلوا، ٹونی لوئیس، اینگس فریزر اور ڈیوڈ رِچرڈسن۔
آئی سی سی نے ان کی پیش کردہ تجاویز کی حمایت کی تھی اور یہ یکم مارچ 2005 میں عمل میں آئی۔

پندرہ ڈیگری کو آخری حد کیوں رکھا گیا ہے؟
اس پینل کے ممبر اینگس فریزر نے اس کی وضاحت میں بتایا ہے کہ بایو مکینکس کے مطابق پندرہ ڈیگری پر ہی بازو کے سیدھے ہونے کو دیکھا جا سکتا ہے۔

مشکوک ایکشن پر شکایت کون درج کر سکتا ہے؟
ابتدائی شکایت صرف میدان میں موجود امپائر یا آئی سی سی کا میچ ریفری ہی کر سکتا ہے۔ وہ اس کا ذکر اپنی میچ رپورٹ میں کرتے ہیں جو پھر آئی سی سی کے پاس جاتی ہے۔ اس میں بازو کا جھکاؤ کی تفصیل ضروری نہیں ہے ۔

پھر کیا ہوتا ہے؟
متعلقہ بولر کو اکیس روز کا عرصہ دیا جاتا ہے کہ وہ آئی سی سی کے ’ہیومن مؤمنٹ ‘ کے ماہرین کے پینل کے سامنے پیش ہو۔ اس پینل میں بائو مکینکس کے چار ماہرین ہیں جو دنیا کے چار مختلف شہروں میں مقیم ہیں۔ اس پینل میں آسٹریلیا سے دو ماہرین اور جنوبی افریقہ اور برطانیہ کے ایک ایک ماہر شامل ہیں۔ اگر پینل کے کسی ماہر کو لگے کہ بولر کے ایکشن میں بازو کا جھکاؤ پندرہ ڈگری سے زیادہ ہے تو بولر کے کرکٹ کھیلنے پر مکمل پابندی لگائی جا سکتی ہے۔

شعیب ملک پر ٹیسٹ کے لیے یہ رفلیکٹر لگائے گئے

بائیو مکینکس ہے کیا؟
بائیو مکینکس جدید کمپیوٹر ٹیکالوجی سے انسانی حرکات کا جائزہ لیتی ہے۔

بائیو مکینکل ٹیسٹ میں ہوتا کیا ہے؟
اس ٹیسٹ میں بولر پر ’ریفلیکٹر‘ لگائے جاتے ہیں اور پھر ان ریفلیکٹر کے ذریعے بولر کی بولنگ ایکشن کی تصویر کمپیوٹر پر آ جاتی ہے۔ اس کا پھر کمپیوٹر پر جائزہ لیا جاتا ہے اور مختلف کمپیوٹر پروگراموں کی مدد سے اس کو ہر پہلو سے دیکھا جا سکتا ہے اور بازو کے جھکاؤ کو ناپا جا سکتا ہے۔

اور اگر بولر نے ٹیسٹ کے دوران اپنا ایکشن صحیح کر لیا؟
ٹیسٹ کے دوران جو ماہر بولر کی ایکشن دیکھ رہا ہے اس کے پاس بولر کے میچ میں بولنگ کی بھی ویڈیو تصاویر ہوتی ہیں۔اگر ماہر کو یہ لگے کہ بولر محض ٹیسٹ کے لیے اپنے ایکشن میں تبدیلی لا رہا ہے تو اس کے پاس بولر کو معطل کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔

کیا بولر اپیل فیصلے پر کر سکتا ہے؟
اگر بولر کے خلاف فیصلہ ہو تو تو وہ بی آر جی یعنی ’بولنگ ریویو گروپ‘ سے سماعت کی درخواست کر سکتا ہے۔ بی آر جی یا تو بولر کو معطل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھے گی یا پھر اس فیصلے کو ختم کردے گی۔ اگر بولر کے حق میں فیصلہ نہیں ہوتا تو وہ اس وقت تک بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیل سکے گا جب تک وہ اپنا بولنگ ایکشن ٹھیک نہ کرے۔

بی آر جی میں کون شامل ہے؟
اس پینل میں چھ ارکان شامل ہوتے ہیں: آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کمیٹی کا رکن جو کہ اس پینل کا چیرمین بھی ہوتا ہے، آئی سی سی کا کوئی موجودہ میچ ریفری،ایک سابق بین الاقوامی کھلاڑی ، ایک سابق بین الاقوامی امپائر، آئی سی سی کے ہیومن مومنٹ کے ایک ماہر اور آئی سی سی کے جنرل مینیجر۔
اس پینل کے ارکان تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

اگر کسی بولر کا ایکشن دوسری مرتبہ رپورٹ ہو تو کیا ہوتا ہے؟
اگر دو سال کے اندر کسی بولر کی دوسری مرتبہ شکایت ہو تو اس کو کم سے کم ایک سال کی مدت کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ اس مدت کے ختم ہونے تک اس فیصلے پر دوبارہ غور نہیں کیا کا سکے گا۔

اس تمام کارروائی کا خرچہ کون اٹھاتا ہے؟
ابتدائی جائزہ کا خرچہ آئی سی سی اٹھاتی ہے لیکن اپیل یا مزید جائزوں کا خرچہ یا تو متعلقہ کھلاڑی یا اس کے کرکٹ بورڈ کو اٹھانا پڑتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد