چیپل نے ذمہ داریاں سنبھال لیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا کے سابق کپتان اور مايہ ناز بلے بازگریگ چیپل نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ کرکٹ بورڈ نے انہیں گزشتہ ماہ نیا کوچ مقرر کیا تھا۔ ٹیم کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے گریگ چپل کو کئی چیلینجز کا سامنا ہے۔ گریگ چپل بدھ کو بھارت پہنچے۔ کہا جارہا ہے کہ کوچ بننے کے بعدوہ پہلی بار کھلاڑیوں سے باضابطہ تبادلہ خیال کرینگے ۔ انکا پہلا کوچنگ کیمپ جولائی کے پہلے ہفتے میں بنگلور میں ہوگا۔ کرکٹ بورڈ اور کھلاڑیوں کو ان سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ سابق آل راؤنڈر کھلاڑی چندو بورڈے کا کہنا ہے کہ ’مسٹر چیپل کرکٹ کے عظیم کھلاڑی رہے ہیں۔ سوچ سمجھ بھی بلا کی ہے۔ انہوں نے آسٹریلیائی کرکٹ کے تمام طور طریقوں کو دیکھا ہے۔ اب یہ ہمارے کھلاڑیوں پر ہے کہ وہ انکی صلاحیت سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘ آسٹریلیا کے سابق کپتان کے پاس ہندوستانی کھلاڑیوں کو آئندہ سیریز کے لیے تیار کرنے کے لیے صرف ایک ماہ کا عرصہ ہے۔ آئندہ اگست میں ہندوستانی ٹیم سری لنکا میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ ایک سہ رخی ون ڈے سیریز کھیلے گی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستانی ٹیم کی رینکنگ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ ایک روزہ میچوں میں وہ آٹھویں مقام پر ہے۔ گریگ چیپل اس سے قبل اشارہ کرچکے ہیں کہ وہ ٹیم کے انتخاب میں اپنا رول زیادہ چاہتے ہیں۔ لیکن سلیکشن کمیٹی کی موجودگی میں اس سلسلے میں ان کا کتنا صلاح و مشورہ قبول کیا جاتا ہے ابھی کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ سابق کھلاڑی سیّد کرمانی کا کہنا ہے کہ ’سلیکشن پینل سپریم اتھارٹی ہے۔اور اگر کوچ اور کپتان ہی ٹیم کا انتخاب کرلیں گے تو پھر سلیکشن کمیٹی کی کیا ضرورت ہے۔‘ ٹیم کے کپتان سوروگنگولی پر پابندی عائد ہے اور انکی غیر موجودگی میں آئندہ سیریز کی کپتانی بھی ٹیم کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ دوسری طرف سچن تندلکر نے اپنی کہنی کا آپریشن کروایا ہے۔اور انکی پوزیشن بھی صاف نہیں۔ مسٹر چپل پر ایک بکھری اور لڑکھڑاتی ٹیم کو سنبھالنے کی ذمہ داری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||