کرکٹ کی دنیا میں نیا اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم میں پہلی مرتبہ بھارتی نژاد مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والےایک نوجوان کو شامل کیا گیا ہے۔ اکیس سالہ ہاشم املا پہلی دفعہ جنوبی افریقہ کی قومی کرکٹ ٹیم کے لیے منتخب ہوئے ہیں اور ساتھ ہی قسمت نے انھیں یہ موقع بھی فراہم کیاہے کہ وہ بین القوامی کرکٹ میں اپنا ابتدائی میچ اپنے آباواجداد کے ملک بھارت میں کھیلیں۔ املا کے آباؤ اجداد نے کئی دہائیوں پہلے بھارت سے جنوبی افریقہ ہجرت کی تھی جہاں انھوں نے ڈربن میں رہائش اختیار کی ۔اکیس سال پہلے ہاشم املا اسی علاقے میں پیدا ہوئے۔ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور اپنے تاریخی ورثے پر فخر کرنے والے ہاشم املا اس دورے میں بھارت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں۔ املا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا دورہ اب تک بہت اچھا جا رہا ہے ۔ یہاں کی ثقافت اور تہذیب کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا تجربہ بہت ہی زبردست ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تجربہ اس لحاظ سے بھی اھم ہے کہ یہاں کی غربت کو دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرنے کا خیال بھی آتا ہے جس نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے۔ املا کی پرورش جنوبی افریقہ کے شہر ٹونگات میں ہوئی جہاں کی نوے فیصد آبادی بھارت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ہے۔ املا جب تیرہ برس کے ہوئے تو وہ اس علاقے کی تمام ایشین ٹیموں کے ساتھ کھیل چکے تھے۔ ان کے خوبصورت سٹروک پلے نے جلد ہی کرکٹ حکام کی توجہ اپنی جانب مبزول کروالی اور وہ سن دو ہزار دو میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے یوتھ ورلڈ کپ کے لیے جنوبی افریقہ کی انڈر 19ٹیم کے کپتان نامزد ہو گئے۔ ہاشم املا کا کہنا ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے بارے میں اس وقت تک کوئی رائے قاھم نہیں کرسکتے جب تک وہ بھارت کے چیلنچ کا سامنا نہیں کر لیتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||