شیراپوہ : نئی ومبلڈن چیمپئین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹینس کی دنیا میں ایک بہت ہی خوبصورت اضافہ ہوا ہے اور یہ اضافہ نسائی حسن کے ساتھ دلکش کھیل بھی ہے۔ سترہ سالہ ماریا شیراپوہ نے جن کا تعلق روس سے ہے، ویمبلڈن ٹینس جیت کر ٹینس کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ شیراپواہ نے وِمبلڈن مقابلوں کا فائنل دو سیٹ میں قدرِ آسانی سے 1-6 اور 4-6 سے جیتا۔ ماریا شراپوہ کی ہم وطن اینا کورنیکوہ جو ٹینس کی دنیا کی خوبصورت کھلاڑی مانی جاتی کبھی کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے ۔ ماریا نے اپنی ہم وطن سے بہت آگے چلی گئی ہے۔ سترہ سال کی عمر میں ویمبلڈن کا فائنل جیت کر لبمی او ر خوبصورت ٹانگوں والی ماریہ شیراپوہ نے دنیاکو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ اس کی فتح اس لیے اور زیادہ اہم ہو کیونکہ اس نے ٹینس کی ایک عظیم کھلاڑی سرینا ولیم کو شکست دی ہے۔ ماریا شراپوہ جس نے ٹینس کی تربیت نو سال کی عمر میں شروع کی تھی پہلی روسی کھلاڑی ہے جو پچھلے تیس سال میں ویمبلڈن ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچی ہے اور پہلی دفعہ ہی فائنل جیت لیا ہے۔ ماریا شیراپوہ کی ہم وطن اینا کورنیکوہ کبھی بھی سیمی فائنل سے آگے نہیں جا سکی ہے۔ ماریا شیراپوہ اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ کھیل پر اپنی برتری ثابت کر دی ہے ۔ سنیچر کے روز ماریہ شیراپوہ نے سرینہ ولیم کو ہرا کر اپنے باپ کی مہنتوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جس نے اپنی بیٹی کو ٹینس کے کھیل کی تربیت دلانے کے لیے اپنا ملک چھوڑ کر امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں جا کر قیام کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||