جنوبی افریقہ کشمکش کا شکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم اس کشمکش کا شکار ہے کہ کیا ہرشل گبز اور نکی بوائے کسی قانونی چارہ جوئی کے بغیر انڈیا کا دورہ کر سکیں گے یا نہیں۔ دونوں کھلاڑیوں پر سن دو ہزار کی سیریز میں اس وقت کے کپتان ہانسی کرونیئے سمیت میچ فکسنگ کے الزامات ہیں۔ ہرشک گبز نے دس ہزار پاؤنڈ کے عوض غیر اطمینان بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا اعتراف کیا تھا لیکن نکی بوائے نے اس بات کی تردید کی تھی کہ میچ فکسنگ کے سلسلے میں ان سے رابطہ کرنےکی کوشش کی گئی تھی۔ ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے مارچ کے اختتام پر بھارتی بورڈ سے بات کی تھی اور بورڈ کا کہنا تھا کہ وہ قانونی حکام سے بات کرے گی لیکن اس کے بعد بورڈ کی طرف سے کوئی خبر نہیں آئی۔ میرا خیال ہے کہ یہ مسئلہ وقت پر حل ہو جائے گا۔‘ ہانسی کرونیئے، ہرشل گبز، نکی بوائے اور پیٹر سٹائرڈم پر الزام تھا انہوں نے ’میچ فکسنگ اور شرطیں لگانے کے لئے دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازشوں سے کام لیا ہے۔‘ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ ہرشل گبز اور نکی بوائے سے پوچھ گچھ کریں گے۔ سن دو ہزار کی متنازعہ سیریز کے بعد جنوبی افریقہ پروگرام کے مطابق نومبر میں بھارت کا دورہ کرنے والا ہے۔ ہرشل گبز کو پانچ ہزار آٹھ سو پاؤنڈ جرمانہ کرنے کے بعد انہیں بین الاقوامی کرکٹ سے چھ ماہ کے لئے باہر نکال دیا گیا تھا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ناگپور میں ایک روزہ میچ سے پہلے کرونیئے سے پیسے وصول کئے تھے۔ لیکن ہرشل گبز کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو وہ جلد آؤٹ ہونا بھول گئے۔ ہانسی کرونیئے نے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد انہیں تاحیات کرکٹ سے باہر کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||