’شعیب کا ایم آر آئی ٹیسٹ کلیئرتھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہر یار خان نے کہا ہے کہ جب شعیب اختر کا ایم آر آئی ٹیسٹ کروایا گیا تو اس میں کسی قسم کے زخم کا کوئی نشان نہیں ملا اور ڈاکٹروں کا بھی یہی کہنا تھا کہ ان کے جسم پر زخم کا کوئی نشان نہیں تھا۔ شعیب اختر اور کچھ اور کھلاڑیوں کے طبی معائنے کے بارے میں ہونے والے فیصلہ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ان الزامات کی تصدیق کرانا چاہتے ہیں اسی لیے انہوں نے تفصیلی معائنے کے لیے طبی کمیٹی بنانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ بی بی سی کے پروگرام ’ ہارڈ ٹاک ‘ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالے سے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سیریز سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران بیس ہزار سے زیادہ بھارتی شہری میچ دیکھنے پاکستان آئے اور جس طریقے سے ان کا پاکستان میں استقبال کیا گیا وہ واقعی قابل ستائش بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو توقع تھی کہ آٹھ ہزار کے قریب لوگ بھارت سے پاکستان آئیں گے لیکن اس کے برعکس بیس ہزار لوگ پاکستان آئے۔ شہر یار خان کے بقول یہ سب لوگ پاکستان کے بارے میں ایک بہتر تاثر لے کر واپس گئے ہوں گے۔ ان لوگوں نے خود دیکھ لیا ہوگا کہ پاکستان میں کوئی غیر معمولی حالات نہیں ہیں اور پاکستان کسی بھی دوسرے ملک کی طرح ایک پرامن ملک ہے اور یہاں کے لوگ روادار اور مہمان نواز ہیں۔ انہوں نے اس بات سے اتفاق کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ دورہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے تباہ کن ثابت ہوا ہے۔ تاہم انہوں نےیہ بات تسلیم کی کہ ٹیم توقعات پر پوری نہیں اتر سکی ۔ انہوں نے کہا کہ ایک روزہ میچوں میں ہمارے گیند بازوں نے بہت زیادہ رن دیے اور وہ وکٹوں کے درمیان بالنگ کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بلے بازوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور پانچ میں سے چار میچوں میں سخت مقابلہ ہوا۔ تاہم ہم آخر میں ہار گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز میں سخت مقابلہ ہوا لیکن ہم ایک بہتر ٹیم سے ہار گئے۔ دوٹیسٹ میچوں میں اننگز کی شکست کے بارے میں انہوں نے کہا ملتان اور راولپنڈی ٹیسٹ میچ مایوس کن تھے۔ لیکن ملتان میں بری طرح ہارنے کے بعد پاکستان نے لاہور ٹیسٹ جیت لیا۔
راولپنڈی میں ہار کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اس شکست سے پریشان نہیں ہیں بالکہ جس انداز میں ٹیم ہاری وہ ان کے لیے تکلیف دہ بات ہے۔ اس میچ میں ہار کی ذمہ داری ٹھہرانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ سب ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ اس میں کھلاڑی ، ٹیم کی انتظامیہ اور کچھ حد تک بورڈ بھی شامل ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کیا کپتان پر اس ہار کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تو انہوں نے کہا کپتان کھلاڑیوں میں شامل ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا آخری میچ میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے بہت پہلے ہیں ہار مان لی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لگتا تھا کہ کھلاڑی اپنے ملک کے وقار کے لیے نہیں کھیل رہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کھلاڑی، عاصم کمال کے علاوہ سب کھلاڑیوں کی کارکردگی مایوس کن تھی۔ شہر یار خان نے ایک کہنہ مشق سفارت کار کی طرح اس ہار کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا کھلاڑی پر عائد کرنے سے انکار کر دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوچ پر اس ہار کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تو انہوں نے کہا کہ سب لوگ ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بنیادی طور پر کھلاڑیوں کو سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اتنی آسانی سے ہار کیوں مان لی اور انہوں نے بھارتی ٹیم کوکیوں اس بات کی اجازت دی کہ وہ ان کو روندتے ہوئے نکل جائے۔ شعیب اختر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئےانہوں نے کہ انہوں نے کہا وہ کسی بھی کھلاڑی اور خاص طور پر شعیب اختر جیسے کھلاڑی کو بغیر کسی وجہ کے سزا دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ ہاڑڈ ٹاک کی میزبان مہرین خان نے جب اصرار کیا کہ کیا بورڈ کے سربراہ شعیب اختر کی بات پر یقین نہیں کرتے تو شہریار خان نے کہا کہ شعیب اختر کی بات حقائق سے بھی سچ ثابت ہونی چاہیے اور ہم ان کے طبی معائنے کی رپورٹ کا انتظار کریں گے۔ انہوں نے کہا یہ بات واقعی بہت افسوس ناک ہے کہ انہیں اس قسم کی انکوائری کرانا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں انصاف ہونا چاہئے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوچ اور کپتان کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ نہ کوچ نہ کپتان ہی انفرادی طور پر اس کے ذمہ دار ہیں۔ یہ ذمہ داری کھلاڑیوں پر عائد ہوتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس سیریز کی ترجیح پاکستانی ٹیم کی جیت کے بجائے بھارت سے تعلقات ٹھیک کرنے پر نہیں تھی تو انہوں نے کہا کہ میں اس مفروضے سے اتفاق نہیں کرتا۔ ہماری ترجیح سیریز میں فتح حاصل کرنا ہیں تھی۔ انہوں نے کہا وہ سیریز کو کامیاب بنانا چاہتے تھے جس کے دوران کوئی نا خشگوار واقع نہ ہو اور لوگ کھیل سے محضوظ ہو سکیں اور پاکستان کا ایک بہتر تاثر بن سکے۔ بھارت سے بڑی بڑی اہم شخصیتوں کا اس دورے کہ دوران پاکستان آنے کے بارے میں انہوں نے کہا یہ محض اتفاق ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری امن مذاکرات پر اس سیریز کے اثرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے امن مذاکرات پر مثبت اثر پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز کے دوران جو آپ نے سٹیڈیمز میں دیکھا، بازاروں میں دیکھا، جس گرمجوشی سے عوام نے بھارت سے آنے والوں کا استقبال کیا اسے دونوں طرف کی حکومتیں نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ شہر یار خان نے میچ فکسنگ کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کو رد کر دیا اور کہا کہ اس سیریز کے دوران بین الاقوامی کرکٹ بورڈ کی اینٹی کرپش یونٹ پاکستان میں موجود رہا اور کھلاڑیوں کی نگرانی کرتا رہا۔ سن دو ہزار پانچ میں دورہ بھارت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ اگلے برس خزاں یا موسم سرما میں پاکستان کی ٹیم بھارت کا دورہ کرے۔ انہوں نے کہا بھارت کے دورے کے دوران کھلاڑیوں کی حفاظت کی ذمہ داری بھارتی حکام کی ہو گی اور پاکستانی ٹیم کو کس بھی جگہ کھیلنے پر اعتراض نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ احمد آباد اور ممبئی میں بھی میچ کھیلنے کو تیار ہیں۔ پاکستان کے دورے سے پہلے بھارت کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے بارے میں انہوں نے کہا وہ بھارتی انتخابات سے پہلے ایک روزہ میچ اور انتخابات کے بعد ٹیسٹ کھیلنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان کی یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||