پاکستان کو فالوآن کا خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملتان ٹیسٹ میں بھارت کے 675 رنز کے جواب میں پاکستانی اوپنروں نے اننگز کا اچھا آغاز کیا اور پہلی وکٹ کی شراکت میں اٹھاون رنز کا اضافہ کیا۔ پاکستان نے منگل کے روز بیالیس رنز پر کھیل کا آغاز کیا تھا اور تیسرے دن جب کھیل کا وقت ختم ہوا تو پاکستان کا سکور 364 رنز تھا اور اس کی چھ وکٹیں گر چکی تھیں۔ پاکستان کو فالوآن سے بچنے کے لئے پہلی اننگز میں چارسو پچھتر رنز بنانے ہیں اور اس کی صرف چار وکٹیں باقی ہیں۔ پاکستان کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی توفیق عمر تھے جو تئیس رنز بنا کر عرفان پٹھان کی گیند پر ڈراوڈ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ پاکستان کے دوسرے اوپنر عمران فرحت نے اڑتیس رنز بنائے۔ وہ بالاجی کی گیند پر ایک بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔ پ
تھے۔ انہوں نے 77 رنز بنائے اور وہ انیل کمبلے کی گیند پر چوپڑہ کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔ انضمام الحق نے نوجوان بیٹسمین یاسر حمید کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ کی شراکت میں ایک سو ساٹھ رنز بنائے۔ پاکستان کے چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی یاسر حمید تھے۔ انہوں نے 91 رنز بنائے اور وہ عرفان پٹھان کا شکار بنے۔ پاکستان کی طرف سے پانچویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی یوسف یوحنا تھا، جو پینتیس رنز بنا کر ظہیر خان کی گیند پر وکٹوں کے پیچھے کیچ ہوئے۔ پاکستان کے چھٹے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی وکٹ کیپر معین خان تھے جو سترہ رنز بنا کر ٹنڈلکر کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ اس وقت عبدالرزاق سینتالیس رنز پر کھیل رہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے عرفان پٹھان نے دو جبکہ ظہیر خان، انیل کمبلے، بالاجی اور سچن ٹنڈلکر نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ ٹیسٹ میچ کے دوسرے دِن انڈیا نے5 وکٹ کے نقصان پر 675 رن بنا کر اننگز ڈکلیئر کر دی تھی۔ اُس وقت سچن تندولکر نے 194 رن بنائے تھے اور وہ ناٹ آؤٹ تھے۔ سہواگ نے 309 رن بنا کر کسی بھی بھارتی کھلاڑی کی جانب سے ٹیسٹ اننگز میں نہ صرف سب سے زیادہ رن بنانے کا ریکارڈ قائم کیا بلکہ وہ ٹرپل سنچری بنانے والے پہلے انڈین بھی بن گئے۔ انہوں نے یہ سکور تین سو پچھتر گیندوں میں بنایا۔ وہ محمد سمیع کی گیند پر توفیق عمر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ سہواگ سے پہلے وی وی ایس لکشن نے 281 رن بنا کر یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||