’جہاں دروازے بند ہوئے، وہیں ایوارڈ ملا‘

ارچ سنہ 2009 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران سری لنکا کی کرکٹ ٹیم دہشت گردی کا شکار ہوئی تھی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنارچ سنہ 2009 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران سری لنکا کی کرکٹ ٹیم دہشت گردی کا شکار ہوئی تھی
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

آج سے ساڑھے سات سال قبل جس میدان پر ٹیسٹ میچ کے دوران پاکستان پر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہوئے تھے آج اسی میدان پر پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں بالادستی کو تسلیم کیاگیا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی نمبر ایک ٹیم بننے پر روایتی ’میس‘ پیش کرنے کی تقریب قذافی سٹیڈیم لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں عالمی نمبر ایک بننے کی خوشی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کی کسک بھی واضح طور پر محسوس کی گئی۔

مارچ سنہ 2009 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران سری لنکا کی کرکٹ ٹیم دہشت گردی کا شکار ہوئی تھی۔

اس واقعے نے صرف اس ٹیسٹ میچ کو ہی وقت سے پہلے ختم کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ اس کے اثرات پاکستانی کرکٹ پر اس طرح ظاہر ہوئے کہ آنے والے برسوں میں بین الاقوامی کرکٹ پاکستان میں ممنوع قرار دے دی گئی جو آج تک برقرار ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے دل میں یہی کسک موجود ہے کہ وہ گذشتہ کئی برسوں سے اپنے شائقین کے سامنے کرکٹ کھیلنے سے محروم ہیں۔

ان کہنا ہے کہ یہی کیفیت شائقین کی بھی ہے جو اپنے کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی دیکھنے سے محروم ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ وہ وقت جلد آئے گا جب پاکستانی میدان ایک پھر بین الاقوامی کرکٹ کے ساتھ دوبارہ سجیں گے۔

مصباح الحق اس دوران پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان بن چکے ہیں۔ان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم 46 میں سے 22 ٹیسٹ جیت چکی ہے۔

اگر اعداد و شمار کی زبان میں بات کی جائے تو پاکستانی ٹیم نے سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد سے اب تک 24 ٹیسٹ سیریز ملک سے باہر کھیلی ہیں جن میں سے نو جیتی ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کی نچلے درجے کی ٹیم زمبابوے کو گذشتہ سال لاہور بلا کر محدود اوورز کی سیریز منعقد کر کے اسے ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کا پہلا قدم قرار دیا لیکن اسے اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ بڑی ٹیمیں یہاں تک کہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز بھی سکیورٹی کے خدشات کے سبب پاکستان آ کر کھیلنے کو تیار نہیں ہیں۔

یہ بات بھی سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان میں وقتاً فوقتاً ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھی متحدہ عرب امارات میں کروانا پڑا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اگرچہ پاکستان میں بین الااقوامی کرکٹ کی واپسی کی خواہاں ہے لیکن وہ بھی سکیورٹی کے معاملے میں بے بس ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن کا کہنا ہے ’آئی سی سی دنیا بھر میں بین الاقوامی کرکٹ کو فروغ دینا چاہتی ہے لیکن اس وقت پوری دنیا میں سکیورٹی کا مسئلہ درپیش ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو آئی سی سی اور اس کے تمام رکن ممالک پاکستان کو سپورٹ کرتے آئے ہیں لیکن پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے آئی سی سی اور اس کے رکن ممالک کا قائل ہونا کافی نہیں بلکہ اس کے لیے سکیورٹی ماہرین کو قائل کرنا بہت ضروری ہے۔‘

ڈیوڈ رچرڈسن کے نزدیک پاکستانی کرکٹ ٹیم کا عالمی نمبر ایک بننا اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ ٹیم سنہ 2009 کے بعد سے اپنے شائقین کے سامنے کھیلنے سے محروم ہونے کے باوجود اس مقام تک پہنچی ہے۔