’کارکردگی وہی اچھی جو میچ جتوائے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر عماد وسیم کا کہنا ہے کہ انفرادی کارکردگی اپنی جگہ اہم لیکن اس کی اصل خوشی اس وقت ہوتی ہے جب ٹیم جیتے۔
عماد وسیم کو بین الاقوامی کرکٹ شروع ہوئے ابھی صرف ایک سال ہوا ہے اس مختصر سے عرصے میں وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اپنے قدم جماتے ہوئے اچھی سے اچھی کارکردگی دکھانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔
عماد وسیم نے بی بی سی اردو سروس کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ انگلینڈ کے خلاف لارڈز کے پہلے ون ڈے میں انھوں نے ناقابل شکست 63 رنز بنائے تھے لیکن انھیں زیادہ خوشی زمبابوے کے خلاف گذشتہ سال ہرارے میں 61 رنز بنانے پر ہوئی تھی ۔
’زمبابوے کے خلاف اپنی اننگز کو میں اس لیے زیادہ اہمیت دیتا ہوں کیونکہ پاکستانی ٹیم وہ میچ جیتی تھی۔لارڈز میں بھی میں اچھا کھیلا تھا لیکن افسوس کہ ہم جیت نہ سکے۔ میرے نزدیک جیتی ہوئی پرفارمنس کی زیادہ اہمیت ہے۔ میں اپنی کارکردگی سے ٹیم کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘
عماد وسیم نے لارڈز میں 63 رنز کی اننگز ایک ایسے وقت کھیلی تھی جب پاکستانی ٹیم صرف دو رنز پر تین وکٹیں گنوانے کے بعد سخت مشکلات میں گھری ہوئی تھی۔ عماد وسیم پانچویں وکٹ گرنے پر میدان میں آئے تھے اور سنچری بنانے والے سرفراز احمد کے ساتھ چھٹی وکٹ کی شراکت میں قیمتی 77 رنز کا اضافہ کیا تھا۔ اس میچ میں انھوں نے الیکس ہیلز اور اوئن مورگن کی وکٹیں بھی حاصل کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
عماد وسیم کا کہنا ہے کہ وہ بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں یکساں مہارت کے حق میں ہیں۔
’محدود اوورز کی کرکٹ میں آپ کو نہ صرف بیٹنگ اور بولنگ بلکہ فیلڈنگ میں بھی بھرپور توجہ دینی پڑتی ہے۔ میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں تینوں شعبوں میں جتنی بھی محنت کرسکتا ہوں وہ کرسکوں۔‘
عماد وسیم کی ون ڈے انٹرنیشنل میں بہترین انفرادی بولنگ 14 رنز کے عوض پانچ وکٹیں ہیں جو انھوں نے آئرلینڈ کے خلاف حاصل کی ہیں۔
عماد وسیم نے متعدد میچوں میں بولنگ کی ابتدا بھی کی ہے لیکن اس سلسلے میں وہ خود پر کوئی دباؤ محسوس نہیں کرتے ۔
’میں کسی خاص پلاننگ کے ساتھ میدان میں نہیں جاتا۔ کھیل کی بنیادی باتوں پر توجہ ہوتی ہے اور اگر کوئی بیٹسمین میری گیند پر چوکا یا چھکا لگادیتا ہے تو میں پریشان نہیں ہوتا بلکہ اگلی گیند کے بارے میں سوچتا ہوں۔اسی طرح بیٹنگ میں بھی ٹیم کی صورتحال کے مطابق کھیلنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
عماد وسیم کو ٹی ٹوئنٹی میں سری لنکا کے خلاف 24 رنز ناٹ آؤٹ کی مختصر لیکن میچ وننگ اننگز یاد ہے جس نے پاکستانی ٹیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد ایک وکٹ سے کامیابی دلائی تھی ۔
ہر کرکٹر کی طرح عماد وسیم کی دیرینہ خواہش بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ہے۔
’ٹیسٹ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے کیونکہ یہی اصل کرکٹ ہے جس میں کھلاڑی کی مہارت کا صحیح پتہ چلتا ہے اور میری بھی یہ خواہش ہے کہ میں اپنے ملک کی طرف سے ٹیسٹ کھیلوں۔ یہ سلیکٹرز، کپتان اور کوچ پر منحصر ہے کہ جب وہ یہ سمجھیں گے کہ میں ٹیسٹ کے لیے تیار ہوں تو میں سو فیصد کارکردگی دکھانے کی کوشش کروں گا۔‘



