’تمغہ جیتنے کے لیے عمر معنی نہیں رکھتی‘

ازبکستان سے تعلق رکھنے والی اوکسانا چوسووتینا ریو اولمپکس میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے والی ہیں۔

41 سال کی عمر میں وہ اولمپکس مقابلوں میں حصہ لینے والی سب سے عمر رسیدہ جمناسٹ بن جائیں گی۔

وہ ان چند خواتین جمناسٹس میں شامل ہیں جنھوں نے ماں بننے کے بعد بھی عالمی سطح پر مقابلوں میں شرکت کی اور تمغے جیتے۔

بطور جمناسٹ اوکسانا کا کریئر چوتھائی صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔

ریو روانگی سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اوکسانا کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتی ہیں کہ تمغہ جیتنے کے لیے عمر کوئی معنی نہیں رکھتی۔

’جب آپ کے سامنے ایک مقصد ہو جس کے حصول کے لیے آپ پرعزم ہوں تو کچھ بھی ممکن ہے۔ میرا ایک ہی خواب ہے کہ میں اپنے آبائی وطن ازبکستان کے لیے تمغہ جیتوں۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر وہ ریو میں یہ کارنامہ کرنے میں کامیاب رہیں تو لگے گا کہ ’میں نے زندگی میں جو کچھ ممکن تھا حاصل کر لیا ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اوکسانا تین ممالک کی طرف سے عالمی مقابلوں میں شرکت کر چکی ہیں۔انھوں نے پہلے سوویت یونین اور پھر جرمنی کی جانب سے مقابلوں میں حصہ لیا جس کے بعد وہ اپنے آبائی ملک ازبکستان کی جمناسٹک ٹیم کا حصہ بنیں۔

1992 کے بارسلونا اولمپکس میں پہلی بار شرکت کرنے والی اوکسانا اب تک چھ بار اولمپکس میں حصہ لے چکی ہیں۔

اپنے ساتویں اولمپکس کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ساتویں بار اولمپکس میں حصہ لے سکوں گی۔ میں شدت سے یہ کرنا چاہتی ہوں اور میں جانتی ہوں کہ میں ابھی بہت کچھ کر سکتی ہوں۔‘

اوکسانا بیجنگ اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتنے کو اولمپکس سے وابستہ اپنی بہترین یاد قرار دیتی ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناوکسانا بیجنگ اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتنے کو اولمپکس سے وابستہ اپنی بہترین یاد قرار دیتی ہیں

اوکسانا کا کہنا ہے کہ جمناسٹک کے قوانین تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور نئی چیزیں سیکھنا ان کے لیے مشکل ہے۔

’ہر چار برس بعد نئے قوانین سامنے آ جاتے ہیں۔ نئی مووز بنا لی جاتی ہیں اس لیے آپ کو کچھ نیا کرنے کو ملتا رہتا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب وہ جوان تھیں تو زیادہ پھرتیلی تھیں مگر ’اب چیزیں بدل چکی ہیں اور میں اب تربیت میں دماغ زیادہ استعمال کرتی ہوں۔‘

اوکسانا بیجنگ اولمپکس میں چاندی کا تمغہ جیتنے کو اولمپکس سے وابستہ اپنی بہترین یاد قرار دیتی ہیں۔ ’میرے لیے تمام اولمپکس یادگار تھے لیکن سب سے اہم بیجنگ اولمپکس تھے جب میں نے نقرئی تمغہ جیتا۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سے بھی بڑی خوشی ان کے لیے وہ خبر تھی کہ ان کا بیٹا لیوکیمیا کی بیماری سے صحت یاب ہوگیا ہے۔ ’اس وقت مجھے احساس ہوا کہ کوئی اولمپک تمغہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘