جیمز اینڈرسن کی پاکستان سیریز میں شرکت مشکوک

انگلینڈ کی ٹیم کا جیمز اینڈرسن کی بولنگ میں انحصار ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنانگلینڈ کی ٹیم کا جیمز اینڈرسن کی بولنگ میں انحصار ہے

انگلینڈ کے فاسٹ بولر جیمز اینڈرسن کی کندھے میں تکلیف کی وجہ سےپاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں شرکت مشکوک ہو گئی ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم کا جیمز اینڈرسن پر بہت انحصار ہے کیونکہ انگلش پیچز پر وہ انتہائی خطرناک بولر سمجھے جاتے ہیں۔

چار میچوں پر مبنی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز 14 جولائی سے لارڈز کے گروانڈ میں ہوگا۔

آئی سی سی بولنگ رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان 33 سالہ اینڈرسن اپنی کاونٹی لنکاشائر کی بھی اگلے دو میچوں میں نمائندگی نہیں کر سکیں گے۔

اینڈرسن نے سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز میں 21 وکٹیں حاصل کی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناینڈرسن نے سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز میں 21 وکٹیں حاصل کی ہیں

اینڈرسن کا کندھا سری لنکا اور انگینڈ کے مابین حال ہی میں کھیلے جانے والی ٹیسٹ سیریز کے دوران زخمی ہوگیا تھا۔

انگینڈ یہ سیریز دو صفر سے جیتنے میں کامیاب رہا تھا اور اینڈرسن نے انگلینڈ کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

انگلش کرکٹ ٹیم کی جانب سے ٹیسٹ میچوں میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے اینڈرسن نے سری لنکا کے خلاف حالیہ سیریز میں 21 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

اینڈرسن کی جانب سے سری لنکا کے خلاف عمدہ کارکردگی ان کی آئی سی سی بولنگ رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر پہنچنے کی وجہ بنی۔ جیمز اینڈرسن سے قبل انگلینڈ کے سٹیورٹ براڈ آئی سی سی بولنگ رینکنگ میں پہلے نمبر پر تھے۔

خیال رہے کہ یہ تین سال سے زائد عرصے میں پاکستانی ٹیم کی پہلی ٹیسٹ سیریز ہے جو وہ ایشیا سے باہر کھیلے گی۔

2013 میں پاکستانی ٹیم جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز تین صفر سے ہاری تھی جبکہ زمبابوے کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی۔ اس کے بعد سے پاکستانی ٹیم نے متحدہ عرب امارات میں پانچ ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں اور سری لنکا کے دو اور بنگلہ دیش کا ایک دورہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انگلش کنڈیشنز میں جیمز اینڈرسن اور سٹیورٹ براڈ کی بولنگ کا سامنا کرنا پاکستانی بیٹسمینوں کے لیے چیلنج ہوگا۔

پاکستانی ٹیم میں شامل بیٹسمینوں میں صرف محمد حفیظ۔ یونس خان اور اظہرعلی کو انگلینڈ میں ٹیسٹ میچز کھیلنے کا تجربہ ہے۔