پاکستان میں بولرز کے لیے پہلی بائیو مکینکس لیب

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز ( لمز ) کے اشتراک سے لاہور میں اپنی بائیو مکینکس لیب کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ لیب لمز میں قائم کی گئی ہے اور اس کا تمام تر سازوسامان پاکستان کرکٹ بورڈ کا اپنا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو امید ہے کہ اس لیب کے ذریعے مشکوک بولنگ ایکشن کے حامل بولرز کے ایکشن دور کرنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ بائیو مکینکس لیب ایک طویل عرصے سے اپنا کام شروع نہیں کر سکی تھی۔
2007 میں بائیو مکینکس کے آسٹریلوی ماہر ڈیرل فوسٹر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ فوری طور بائیومکینکس لیب شروع کریں۔
2008 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے دور میں بائیومکینکس آلات اور کیمرے درآمد کیے گئے تھے لیکن منصوبہ بندی کے فقدان کے سبب ان آلات اور کیمروں کو کام میں نہ لایا جا سکا تھا بلکہ ان میں سے دو کیمرے ٹوٹ بھی گئے تھے جنھیں اب تبدیل کیا گیا ہے ۔
ڈاکٹر نسیم اشرف کے بعد آنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے کسی بھی چیئرمین نے بائیومکینک لیب کی اہمیت محسوس نہیں کی اور بھاری رقم سے درآمد کیا گیا سامان اور آلات ڈبوں میں بند پڑے رہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس طرح کی لیب کی اہمیت اس وقت پتہ چلی جب گذشتہ سال اس کے دو اہم بولرز سعید اجمل اور محمد حفیظ مشکوک بولنگ کی زد میں آئے اور آئی سی سی نے انھیں بین الاقوامی کرکٹ میں بولنگ سے روک دیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان دونوں بولرز کے بولنگ ایکشن کو درست کرانے کے لیے کافی پیسہ خرچ کیا اور انھیں دنیا کی مختلف بائیومکینکس لیب میں بھیجا۔
بورڈ نے سعید اجمل کے بولنگ ایکشن کو درست کرنے کے لیے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کی خدمات بھی حاصل کیں لیکن نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں بائیو مکینکس کی بین الاقوامی معیار کی سہولتیں نہ ہونے کے سبب یہ کوشش کار آمد ثابت نہ ہو سکی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان یہ کہہ چکے ہیں کہ اس وقت ڈومیسٹک کرکٹ میں 25 سے زیادہ بولرز ایسے ہیں جن کے بولنگ ایکشن قواعد وضوابط کے مطابق نہیں ہیں ان تمام کو اس بائیو مکینکس لیب میں لایا جائے گا۔
شہریار خان کا کہنا ہے کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اس لیب کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لاکر اسے آئی سی سی سے منظور کرایا جائے تاکہ یہ بھی دنیا کی دوسری بائیومکینکس لیبارٹریز کی طرح کام کر سکے اس کے لیے آئی سی سی کے ماہرین کو پاکستان آنے کی دعوت دی جائے گی تاکہ وہ اس کا جائزہ لے سکیں۔



