آفریدی کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟

ایک ناکام اننگز کے باوجود یہ پرستار اگلی اننگز سے امید لگا لیتے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنایک ناکام اننگز کے باوجود یہ پرستار اگلی اننگز سے امید لگا لیتے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، موہالی

شاہد آفریدی نے سچن تندولکر جتنے رنز اور سنچریاں نہیں بنائیں انھوں نے مرلی دھرن اور شین وارن جتنی وکٹیں بھی حاصل نہیں کیں اور نہ ہی کلائیو لائیڈ اور رکی پونٹنگ کی طرح دو عالمی کپ جیتے لیکن مقبولیت کے پیمانے پر پرکھے جانے پر وہ دنیا کے کسی بھی دوسرے کرکٹر سے بہت آگے دکھائی دیتے ہیں ۔

پچھلے 20 سال کے دوران کرکٹ نے غیرمعمولی صلاحیت کے حامل کئی کرکٹرز کو غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن ان دو دہائیوں میں انھیں بھی وہ مقبولیت نہ مل سکی جو شاہد آفریدی کے حصے میں آئی۔

صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں شاہد آفریدی کے پرستاروں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ شاہد آفریدی پرفارم کریں یا نہ کریں ان پرستاروں کی تعداد اور ان کی آفریدی سے محبت میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ شاہد آفریدی کی خراب فارم اور پرفارمنس انھیں تکلیف ضرور دیتی رہی ہے لیکن انھیں یہ بات کسی طور گوارا نہیں کہ اس خراب فارم اور کارکردگی پر کوئی شاہد آفریدی پر تنقید کرے۔

آج کل سوشل میڈیا کے اس دور میں تو جیسے آفریدی کے پرستاروں نے مورچہ سنبھال رکھا ہے کہ جیسے ہی ان پر تنقید ہوئی ان کے چاہنے والوں نے اپنے پسندیدہ کرکٹر کا دفاع کرنا شروع کردیا۔

آخر اس مقناطیسی کشش کا سبب کیا ہے ؟

37 گیندوں پر بننے والی سنچری سے لے کر ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 351چھکوں کے ریکارڈ تک

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن37 گیندوں پر بننے والی سنچری سے لے کر ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 351چھکوں کے ریکارڈ تک

اس سوال کا جواب صرف یہی ہے کہ شاہد آفریدی نے اپنے پورے کریئر میں ایسی جارحانہ کرکٹ کھیلی ہے جو شائقین کے لیے بہترین تفریح ثابت ہوئی اور ان کے اسی انداز نے ہر کسی کو اپنا گرویدہ بنا دیا اور وہ ہر ایک کے لیے بوم بوم آفریدی بن گئے۔

اگرچہ ان کے اس انداز کو کئی بار غیرذمہ داری کے کٹہرے میں بھی لا یا گیا لیکن شاہد آفریدی شاید یہ طے کر کے ہی انٹرنیشنل کرکٹ میں آئے تھے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے انھوں نے اپنا یہ انداز کبھی تبدیل نہیں کرنا۔

ہاں! اگر وہ یہ انداز تبدیل کر دیتے تو شاید ان کے پرستاروں کی تعداد بھی کم ہوتی جاتی لیکن جارحانہ چھکے چوکے اور ہر بولر کو چڑھ کر کھیلنے کے اس انداز نے اپنے پرستاروں کو کہیں بھی نہیں جانے دیا۔

ایک ناکام اننگز کے باوجود یہ پرستار اگلی اننگز سے امید لگا لیتے کہ اس بار تو نہیں لیکن اگلی بار۔اگلی بار نہیں تو اس سے اگلی بار۔

،تصویر کا ذریعہAFP

اسی اتار چڑھاؤ میں شاہد آفریدی کا کریئر آگے بڑھتا گیا اور دنیا کو ایسی کئی اننگز دیکھنے کو مل گئیں جو شاید سنتھ جے سوریا، میتھیو ہیڈن، برائن لارا یا وریندر سہوگ بھی نہ کھیل پائے۔

37 گیندوں پر بننے والی سنچری سے لے کر ون ڈے انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 351چھکوں کے ریکارڈ تک۔

ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹوں سے لے کر اس فارمیٹ میں سب سے زیادہ مرتبہ مین آف دی میچ ایوارڈ تک۔

شاہد آفریدی نے اپنی موجودگی کا احساس قدم قدم پر دلایا اور آج جب وہ وقت آگیا ہے کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہیں تو شائقین یقیناً یہی سوچ رہے ہیں کہ بیٹسمین تو کئی اور آ جائیں گے لیکن آفریدی جیسا کوئی دوسرا نہیں آئے گا۔