بیٹنگ آرڈر اہم ہے یا پاکستان ؟

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، موہالی
آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 میں پاکستانی بیٹسمینوں کی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے بعد وقاریونس کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوگیا ہے اور انھوں نے تمام بیٹسمینوں خصوصاً عمر اکمل کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
یاد رہے کہ عمراکمل نے کولکتہ میں عمران خان کی ٹیم سے ملاقات کے موقع پر اپنے بیٹنگ آرڈر کا گلہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ ٹیم منیجمنٹ سے کہیں کہ وہ انھیں اوپر کے نمبر پر بھیجے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے بعد دل شکستہ وقاریونس نے کہا کہ شرجیل خان نے بہت ہی عمدہ اننگز کھیل کر ایک مضبوط بنیاد فراہم کردی تھی لیکن بعد میں آنے والے بیٹسمین ایسے وقت میں باؤنڈریز ہی نہیں لگا سکے جب ان کی ضرورت تھی۔
واضح رہے کہ پاکستانی اننگز میں آخری چوکا شاہد آفریدی نے لگایا تھا لیکن آخری 31گیندوں پر ایک بھی چوکا نہ لگ سکا۔
وقاریونس نے عمراکمل پر خاص طور پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ یہ شور مچارہے تھے کہ انھیں بیٹنگ آرڈر میں اوپر بھیجا جائے تو آج اس سے زیادہ اچھا موقع اور کیا مل سکتا تھا۔
وقار یونس نے کہا کہ شرجیل خان نے ایک پلیٹ فارم کھڑا کردیا تھااور ایک موقع ایسا بھی آگیا تھا کہ ایک ایک دودو رنز کرکے ہی میچ جیتا جاسکتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا کہ نمبر ( بیٹنگ آرڈر ) اہم ہے یا پاکستان؟
وقاریونس کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے اس ٹورنامنٹ میں جس طرح کی کرکٹ کھیلی ہے وہ افسوسناک ہے۔انھوں نے کہا کہ موہالی کی وکٹ ہمیشہ بیٹنگ کے لیے اچھی رہی ہے اور اس پر 200 رنز کا ہدف بھی عبور ہوتا رہا ہے لیکن ہماری مڈل آرڈر بیٹنگ نے صورتحال کو اپنے ہاتھ سے نکال دیا۔
انھوں نے کہا کہ اس طرح کی کارکردگی کے بعد اب کرکٹ بورڈ کو سوچنا ہوگا کہ ٹی 20 فارمیٹ کے لیے ٹیم کو کس طرح کے کرکٹرز کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب انھوں نے غلطیوں کی نشاندہی کی ہے وہ پہلے بھی کرچکے ہیں اور وآپس جاکر ارباب اختیار کو سمجھانے کی کوشش کرینگے لیکن اگر وہ نہیں سمجھتے تو یہ ان پر منحصر ہے۔



