روایتی حریفوں کے مابین ایشیا کپ کا ’سب سے بڑا‘ میچ

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, ذیشان حیدر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بنگلہ دیش میں جاری ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں سنیچر کو دو روایتی حریف پاکستان اور بھارت مدِمقابل آ رہے ہیں۔
ڈھاکہ میں کھیلا جانے والا یہ میچ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے شروع ہوگا۔
پاکستان جہاں اس میچ سے ٹورنامنٹ میں اپنے سفر کا آغاز کر رہا ہے وہیں بنگلہ دیش کے خلاف ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں فتح کے بعد بھارتی ٹیم کے حوصلے بلند ہیں۔
ماضی میں ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں دس مرتبہ مدِمقابل آ چکی ہیں اور دونوں نے پانچ پانچ مرتبہ فتح حاصل کی ہے۔
یہ دونوں ٹیمیں ایشیا کپ میں آخری مرتبہ دو مارچ 2014 کو مدِ مقابل آئی تھیں اور بھارت کی جانب سے دیے گئے 246 رنز کے ہدف کو پاکستان نے شاہد آفریدی کی 18 گیندوں پر 34 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کی بدولت آخری اوور میں حاصل کر لیا تھا۔
اس مرتبہ یہ ٹورنامنٹ اپنے روایتی ون ڈے فارمیٹ کی جگہ ٹی 20 فارمیٹ کے تحت کھیلا جا رہا ہے اور اس طرز کی کرکٹ میں بھارت کا پلڑا کہیں بھاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
رواں برس پاکستان نے اس ٹورنامنٹ کے لیے سکواڈ کا اعلان کئی ہفتے قبل ہی کر دیا تھا تاہم متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی پاکستان سپر لیگ کے دوران شرجیل خان اور محمد سمیع جیسے کھلاڑیوں کی کارکردگی اس سکواڈ میں تبدیلی کی وجہ بنی۔
پاکستانی سکواڈ میں جہاں کپتان شاہد آفریدی، عمر اکمل اور شعیب ملک جیسے تجربہ کار سپر سٹارز شامل ہیں وہیں محمد نواز جیسے باصلاحیت آف سپنر بھی پی ایس ایل میں اپنی کارکردگی کے بل بوتے پر پہلی بار ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔
پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر محمد عامر بھی سپاٹ فکسنگ کے جرم میں کرکٹ سے پانچ برس کی دوری کی سزا کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ کسی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کا حصہ بن رہے ہیں۔
حال ہی میں ختم ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں محمد عامر کی کارکردگی قابلِ ذکر رہی اور وہ ٹورنامنٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے واحد بولر تھے۔
بھارت بھی اس ٹورنامنٹ میں بولنگ کے شعبے میں تجربہ کار اشیش نہرا کے ہمراہ ہردک پانڈیا اور جسپریت بھمرا جیسے نوجوانوں کو جگہ دی ہے جو حال ہی میں آسٹریلیا اور سری لنکا کے خلاف عمدہ کارکردگی دکھا چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
دیکھا جائے تو یہ میچ دراصل پاکستانی بولروں اور بھارتی بلے بازوں کا مقابلہ ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ محمد عامر، محمد سمیع، وہاب ریاض اور محمد عرفان پر مشتمل پاکستانی اٹیک کی ویراٹ کوہلی، روہت شرما، شیکھر دھون اور یوراج سنگھ جیسے بلے بازوں سے ٹکر دیکھنے کے لائق ہوگی۔
اس میچ کے حوالے سے پاکستان بھر میں بہت جوش و خروش پایا جاتا ہے اور شائقین کرکٹ نے گھروں اور عوامی مقامات پر بڑی سکرینز لگا کر اس ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ براہ راست دیکھنے کی تیاریاں کی ہیں۔
پاکستان اور بھارت جب بھی کرکٹ کے میدان میں مدِمقابل ہوتے ہیں تو یہ کھیل میں مہارت کے ساتھ ساتھ اعصاب پر قابو رکھنے کا مقابلہ بھی ہوتا ہے اور چند گھنٹے بعد یہ بات صاف ہو جائے گی کہ کرکٹ اور اعصاب کی جنگ میں بازی اس بار کس کے ہاتھ رہتی ہے۔



